وزیراعظم کی بوسنیا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، تجارت و دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ملاقات میں ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت کی

وزیراعظم کی بوسنیا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں تجارت و دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، جن میں سیاسی اور اقتصادی روابط، دفاعی تعاون، ہنرمند افرادی قوت کا تبادلہ، تعلیم اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی مضبوط اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی استحکام ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بوسنیا و ہرزیگووینا سے وابستہ ہے۔

شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات کے باضابطہ آغاز پر ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کو یورپی اور مغربی بلقان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے خطے میں تجارت اور علاقائی روابط کے ممکنہ مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔

ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور حالات معمول پر لانے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔

بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کی غیر قانونی حیثیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی بھی مکمل حمایت کی۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے باہمی رابطے میں رہنے اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں کے تبادلے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

Load Next Story