حافظ نعیم الرحمٰن کا مریم نواز کے اثاثہ جات کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

مریم نواز بتائیں 2 کروڑ 72 لاکھ روپے کہاں سے آئے اور ان پر کتنا ٹیکس ادا کیا گیا، امیر جماعت اسلامی پاکستان

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اثاثہ جات کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز بتائیں 2 کروڑ 72 لاکھ روپے کہاں سے آئے اور ان پر کتنا ٹیکس ادا کیا گیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی کامیابی ہے کہ آج عوام کو بھتے اور لیوی کا پتہ چل چکا ہے، حکومت کے ساتھ چھ ادوار ہوچکے ہیں، لیوی کے خاتمے کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے، جماعت اسلامی نے حکومت کو بتا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کے بہانوں کے علاوہ کچھ نہیں، آئی ایم ایف کے پروگرام میں لیوی لگانے کی کوئی لازمی شرط نہیں، عالمی مالیاتی ادارے نے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کی بات کی ہے۔ ایف بی آر میں 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، آئی ایم ایف نے بڑے جاگیرداروں سے ٹیکس نہ لینے کا نہیں کہا۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ ایک سیکریٹری نے آئی ایم ایف معاہدے میں لیوی کی شرط نہ ہونے کی بات کی تو اسے خاموش کروا دیا گیا۔ حکومتی موقف کہ شرح سود کم کرنے سے مہنگائی بڑھے گی، غلط ہے، شرح سود کم ہونے سے مہنگائی میں کمی آتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایس سی او اجلاس کے لیے نئی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں، گاڑیوں سے سمٹ کامیاب نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ان سے رابطہ کرکے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا کہا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ نہ ملتوی کریں گے نہ ختم، صرف وقفہ کیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ دھرنے اور احتجاج جاری ہیں، حکومت نے ریلیف پیکیج دے دیا تو احتجاج ختم کردیں گے، بصورت دیگر لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں لانگ مارچ وہیں سے دوبارہ شروع کریں گے جہاں روکا گیا تھا۔

Load Next Story