متحدہ عرب امارات نے ایرانی بینک پر پابندی لگا دی
(اے آئی سے بنوائی گئی تصویر)متحدہ عرب امارات نے بینک ملّی ایران کی شاخوں کو ایران سے مالی لین دین سے روک دیا۔
متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے ایرانی بینک ملّی ایران کی ملک میں قائم تمام شاخوں کو ایران سے مالی لین دین کرنے سے روک دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اماراتی مرکزی بینک نے یہ اقدام متحدہ عرب امارات میں نافذ قوانین، ضوابط اور نگران ادارے کے فیصلوں کی خلاف ورزیوں کے بعد کی گئی ہے۔
اماراتی مرکزی بینک نے کہا کہ ملّی بینک کی تمام شاخوں پر ایران سے یا ایران کو کسی بھی قسم کی مالی لین دین، تجارت کے لیے مالی معاونت اور رقوم کی منتقلی پر پابندی عائد کردی گئی۔
یہ فیصلہ بینک کی سرگرمیوں کے حوالے سے کیے گئے معائنے کے نتائج اور گورنر کو حاصل قانونی اختیارات کے تحت کیا گیا۔ خلاف ورزیوں میں منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور جوہری و دیگر حساس سرگرمیوں کے پھیلاؤ کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور تقاضوں کی عدم تعمیل بھی شامل ہے۔
اماراتی مرکزی بینک نے واضح کیا کہ پابندی کے بعد متحدہ عرب امارات میں موجود بینک ملّی ایران کی تمام شاخیں ایران سے متعلق مالی لین دین، بشمول ٹریڈ فنانس اور فنڈ ٹرانسفرز، انجام نہیں دے سکیں گی۔
یہ اقدام ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اگست میں بھی ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی روابط محدود کیے تھے، جبکہ امریکی حکام نے اسی ماہ بینک ملی سے منسلک ایک شخص پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
اماراتی مرکزی بینک نے کہا ہے کہ وہ ملک کے مالیاتی نظام کی سلامتی اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے نگرانی کا عمل مزید مضبوط کرے گا اور مالیاتی اداروں سے بین الاقوامی معیار کے مطابق قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے گا۔