ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ پڑتال کا نظام متعارف کرا دیا

متعلقہ افسر ان لینڈ ریونیو رجسٹرڈ شخص کے جواب کا جائزہ لے گا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ پڑتال کا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے۔

نئے نظام کے تحت کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق، قانونی غلطیوں یا تضادات کی نشاندہی رجسٹرڈ افراد کو آئی آر آئی ایس کے ذریعے آن لائن ایڈوائس یا پیشگی اطلاع کی صورت میں کی جاسکے گی، تاکہ کسی قانونی یا تعزیری کارروائی سے قبل متعلقہ شخص وضاحت پیش، غلطیوں کی اصلاح یا دیگر ضروری تدارک کرسکے۔

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترامیم کرتے ہوئے سیلز ٹیکس ریٹرنز اور دستیاب دیگر ڈیٹا کی کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے خودکار جانچ پڑتال، تجزیے اور کراس میچنگ کا طریقہ کار وضع کردیا ہے۔

ترامیمی قواعد کے مطابق متعلقہ افسر ان لینڈ ریونیو بھی نظام کے ذریعے پیدا ہونے والی پیشگی اطلاع رجسٹرڈ شخص کو ارسال کرسکے گا۔ اطلاع میں جواب دینے کے لیے مقررہ مدت واضح کی جائے گی جو 7 دن سے کم نہیں ہوگی۔ مقررہ مدت میں جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں رجسٹرڈ شخص کو کم از کم مزید 7 دن کی مہلت کے ساتھ ریمائنڈر بھجوایا جائے گا۔

کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے سامنے آنے والے مسائل یا تضادات، رجسٹرڈ شخص کو بھیجی گئی اطلاعات اور موصول ہونے والے جوابات کا ریکارڈ متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والے افسر ان لینڈ ریونیو کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

ایف بی آر کے مطابق رجسٹرڈ افراد کو بھیجی گئی اطلاعات، موصولہ جوابات اور ان پر کیے گئے اقدامات کا ریکارڈ نظام کے تحت تیار کردہ ڈیش بورڈ میں محفوظ کیا جائے گا۔

سیلز ٹیکس ریٹرنز اور دیگر دستیاب ڈیٹا کی خودکار جانچ پڑتال، تجزیے اور کراس میچنگ، نظام کی جانب سے نشاندہی کیے گئے مسائل اور رجسٹرڈ افراد کے ساتھ الیکٹرانک رابطے کا مذکورہ طریقہ کار کمپیوٹرائزڈ نظام کے ہموار اور مؤثر نفاذ کے لیے چینج ریکوئسٹ فارم (سی آر ایف) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

متعلقہ افسر ان لینڈ ریونیو رجسٹرڈ شخص کے جواب کا جائزہ لے گا اور ضرورت پڑنے پر سیلز ٹیکس ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی متعلقہ دفعات کے مطابق کارروائی کرے گا۔

Load Next Story