جنوبی سندھ صوبے کی تحریک پہلے بھی چلائی، آج بھی مؤقف پر قائم ہوں، آفاق احمد
مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ جنوبی سندھ صوبے کے قیام کے حق میں رہے ہیں اور اس وقت بھی تحریک چلائی جب اس مطالبے پر بات کرنا جرم سمجھا جاتا تھا۔
شاہ فیصل ٹاؤن میں خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ جنوبی سندھ صوبے کے لیے دستخطی مہم بھی چلائی گئی ملک کی تقدیر کا فیصلہ چند خاندان نہیں بلکہ 27 کروڑ عوام کریں گے۔ ملک میں سیاسی تجربات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کو پانی، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولتیں نہیں ملتیں، ملک کا نظام مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔
ایسا حکمران ہونا چاہیے جو عوام کو جوابدہ ہو جبکہ احتساب کا حق بھی عوام ہی کو حاصل ہے۔ انہوں نے ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
آفاق احمد کا کہنا تھا کہ جس دن عوام کو یقین ہوگیا کہ ان کے ووٹ کی عزت ہے اور وہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی لاسکتے ہیں انتخابی ٹرن آؤٹ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے ووٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نظام میں تبدیلی ممکن نہیں جہاں بدعنوان عناصر کو تحفظ حاصل ہو۔
کراچی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں ڈکیتی کے دوران شہری قتل ہوجاتے ہیں اور ڈمپر حادثات میں بھی قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں لیکن ذمہ داروں کو سزائیں ملنے کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے پکا قلعہ واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کراچی سے کسی کو ہمدردی نہیں۔
مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین نے محصورین مشرقی پاکستان کو وطن واپس لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی پاکستانی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے مہاجر قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
آفاق احمد نے مہاجر حقوق، شناخت اور کراچی کے سیاسی و معاشی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا اور کہا کہ مہاجر برادری کو روزگار سمیت تمام شعبوں میں اس کا جائز حق ملنا چاہیے۔
انہوں نے سندھ حکومت کی بعض پالیسیوں اور بلدیاتی قوانین میں ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے کراچی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا۔
خواتین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاشرے اور سیاست کی ترقی کے لیے خواتین کا آگے بڑھ کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔
خواتین کے خلاف تفریق، ناانصافی اور گھریلو تشدد کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں خواتین کو آبادی کے تناسب سے جائز حصہ اور کوٹہ دینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خواتین کی سیاسی شرکت اور شعور کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کی فعال شمولیت مہاجر برادری کے روشن مستقبل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔