لاہور: مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خاتون کا عدالت میں بیان قلمبند
لاہور کی کینٹ کچہری میں غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے کیس کی سماعت کے لیے متاثرہ خاتون کو سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کر دیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کے روبرو غیر ملکی خاتون کا دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کرلیا گیا، عدالتی کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، خاتون کا 1 گھنٹے سے زائد وقت تک بیان ریکارڈ کیا گیا، بیان قلمبند ہونے کے بعد خاتون کو خفیہ راستے سے احاطہ عدالت سے باہر لے جایا گیا۔
دوسری جانب متاثرہ خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی جس میں جنسی زیادتی کی نشاندہی ہوگئی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادتی اور رضامندی سمیت تمام پہلوؤں پر تفتیش کی جارہی ہے، تینوں مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے بعد ڈی این اے کروایا جائے گا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سہولت کاری میں خاتون سمیت گرفتار 3 افراد نے معاملہ مشکوک بنا دیا ہے، متاثرہ غیر ملکی خاتون کی ٹریول ہسٹری اور بیانات بھی مشکوک ہیں۔ لڑکی کے کپڑے کے کاروبار کرنے کے شواہد بھی نہیں مل سکے، لڑکی کے تین بار لاہور آنے کی وجوہات بھی مشکوک ہیں، لڑکی کا لاہور آنے پر متعدد افراد کے ساتھ رابطہ رہا
پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج ہے، پولیس نے ابتدائی طور پر اس کیس میں 5 افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، حراست میں لیے گئے افراد مبینہ ملزمان کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔
پولیس کے مطابق زیرحراست افراد سے ملنے والی معلومات اور دیگر شواہد کی روشنی میں مرکزی ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خاتون نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ وہ گزشتہ 15 سے 20 روز سے کاروباری سلسلے میں پاکستان میں مقیم ہے۔ خاتون کے مطابق 25 ستمبر کی رات 2 نامعلوم لڑکیاں اسے ڈنر کے لیے ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں 3 نامعلوم مرد موجود تھے۔
خاتون نے الزام لگایا کہ مذکورہ افراد اسے گاڑی پر سیر کروانے کے بہانے ایک فلیٹ پر لے گئے، جہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کیا گیا اور تینوں افراد نے باری باری اس سے مبینہ زیادتی کی۔