خیبرپختونخوا حکومت اس حد پر نہ جائے کہ گورنر راج لگانا پڑے، فیصل کریم کنڈی

صوبے میں کرپشن اور گوننس کے مسائل ہیں، جنازے اٹھ رہے ہیں ایسے میں لانگ مارچ چھوڑ کر امن و امان پر توجہ دیں، گفتگو

فوٹو: فائل

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں گورننس اور کرپشن کے مسائل ہیں جبکہ جنازے اٹھ رہے ہیں، کے پی حکومت اس حد تک نہ جائے کہ ایمرجنسی لگانی پڑے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال لانگ مارچ کی متحمل نہیں ہو سکتی، صوبے میں دہشت گردی کے باعث جنازے اٹھ رہے ہیں، ایسے حالات میں اسلام آباد پر چڑھائی مناسب نہیں۔ صوبے میں گورننس اور کرپشن کے مسائل بھی موجود ہیں، صوبائی حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔

پشاورمیں ہسپتال کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں صوبے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے صوبے میں امن قائم کیا جائے، سیاست اور دیگر معاملات بعد میں بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لانگ مارچ ملتوی کرکے امن و امان کی صورتحال پر توجہ دی جائے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج مجبوری کے تحت اس وقت لگایا جاتا ہے جب صوبے کے حالات خراب ہوں۔ صوبائی حکومت اس حد تک نہ جائے کہ گورنر راج لگانے کی نوبت آئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کے حالات خراب ہوئے تو وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں، صوبائی حکومت اس حد تک نہ جائے کہ صدر پاکستان اور وفاقی حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرنے پر مجبور ہونا پڑے۔

قبل ازیں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر ٹیچنگ اسپتال کا دورہ کیا اور ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے احتجاج میں ان سے اظہار یکجہتی کیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کی درخواست پر ینگ ڈاکٹرز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی صورتحال کے پیش نظر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں گورنر فیصل کریم کنڈی کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
 

Load Next Story