ٹرمپ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور؟ ایران کو پابندیاں ختم اور منجمد رقم واپس کرنے کی پیشکش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام میں ٹھوس پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔
امریکی میڈیا اداروں ایکسیوس اور سی این این کو یہ بات امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی۔ ان کے بقول امریکا ثالثوں کے ذریعے ایران سے مثبت اور تعمیری بات چیت کررہا ہے۔
تاہم امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ جوہری معاملات پر مکمل پیش رفت کے بغیر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پائے گا۔ اس معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج نیویارک میں قطری ثالثوں سے ملاقات کریں گے جس میں جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کی تازہ تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد قطری ثالثوں کی نیویارک میں موجود امریکی حکام سے بھی الگ ملاقات متوقع ہے جس میں وہ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بارے میں بتائیں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے پیش کردہ سات روزہ منصوبے کے ترمیم شدہ مسودے پر بات چیت ہوسکتی ہے۔
تاہم امریکی وفد کی نمائندگی کون کرے گا اس بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ بندی سے متعلق پیشکش کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع ہے۔