بند کمروں کی پالیسی قبول نہیں اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کریں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
فوٹو: فائل
پشاور: وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے حوالے سے بندکمروں کے فیصلے کسی صورت منظور نہیں ہیں، اپنی پالیسی منوانے کیلیے اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کریں گے، 4 اکتوبر کا مارچ ہر صورت ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی منصوبے میں پنک بسوں کو باضابطہ طور پر شامل کرلیا، سہیل آفریدی نے خواتین کے لئے پنک بس سروس کا افتتاح کر دیا، جس کا کرایہ 25 فیصد کم رکھا گیا ہے۔
جس کے بعد ابتدا میں خواتین کیلیے 5 پنک بسیں چلائی جائیں گی اور اس میں 12 سال سے زائد عمر لڑکوں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
یہ سروس گلبہار اسٹیشن سے کارخانو مارکیٹ تک 21 کلومیٹر تک کوریڈور پر پیر سے جمعہ صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں چلائی جائے گی۔
افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ قوم کا پیسہ فضول خرچ نہیں کرینگے، ہم نے تمام منصوبے عوام کے لئے کرنے ہیں اور پھر اُن کے حوالے کردیں گے۔ خواتین کے لئے بس سروس کا کرایہ 25 فیصد کم ہوگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صدر سے مال روڈ تک بی آر ٹی بس میں سفر کیا، وہاں سے دوسری بس میں سوار ہو کر تقریب کے مقام پر پہنچے۔
گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم عوامی لوگ ہیں، عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل اور مشکلات کا احساس ہوتا ہے، اگر یہ پروگرام سرکاری خرچ پر ہے تو یی خرچہ میں برداشت نہیں کرونگا بلکہ وزیر ٹرانسپورٹ کو اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو عوامی منڈیٹ سے آتے ہیں وہ ہمیشہ عوام کی خدمت کرتے ہیں، عوامی منڈیٹ والے اپنے لئے جہاز اور پرپل انٹریرر والی گاڑیاں نہیں خریدتے، 3 دن کی کانفرنس کے لئے قوم کے چھ ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنک بس میں سفر کرنے والی خواتین کو کرایہ میں 25 فیصد رعایت دی جائے گی جبکہ اس میں ڈرائیور اور دیگر عملہ بھی خواتین پر مشتمل ہوگا، ایسی خواتین ہمارے لیے رول ماڈل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ کے پی کو دہشتگرد کہتے ہیں وہ دیکھے ہم کیسے اپنی ماوں بہنوں کی عزت کرتے ہیں، یہاں کوئی بھی چادر اور چاردیواری کو پامال نہیں کرتا۔ یہ مہذب اور غیرت مند پختونوں کا معاشرہ ہے۔
عورتوں اور بزرگوں کی عزت کرنے ہمارے خون میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی ایسا کام نہیں کرینگے جس سے پاکستان کو خطرہ ہو، بھی یہ نہیں کہیں گے کہ ہمیں انڈیا سے نہیں باقی صوبوں سے خطرہ ہے، ہہ سال صوبے میں امن ترقی و خوشحالی کا سال ہوگا۔ جو لوگ بند کمروں کے فیصلے کرہے ہیں انہیں میز پر لاکر اپنی پالیسی نافذ کرکے دکھاؤں گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ تین مسخرے ٹی وی پر بیٹھ کر ہمارے 80 ہزار شہداء کی توہین کررہے ہیں، اس بار ہر وہ پالیسی تبدیل ہوگی جس سے یہ صوبہ لہو لہان ہوا، اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کرینگے مگر ایسی پالیسی قبول نہیں کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا، یہ عہدے اور کرسی اس کے لئے معنی رکھتی ہے جس کے اپنے مفاد ہوں، ہم ڈر کر پیچھے ہٹنے والے نہیں، 4 اکتوبر کو ہر صورت مارچ کرینگے۔