کراچی میں 15 ڈاکوؤں کا کمپنی پر دھاوا، گارڈز اور پولیس اہلکاروں کورسیوں سےباندھ کر واردات کر کے فرار

سرکاری اسلحہ اور سیکیورٹی گارڈ کا اسلحہ ، میگزین ، گولیاں اور 3 موبائل فونز چھین کر فرار ہوئے، مقدمہ درج

فوٹو: فائل

کراچی کے ضلع ملیر میں لاقانونیت کی انتہا ہوگئی جہاں 15 سے زائد ڈاکوؤں کے جتھے نے پورٹ قاسم میں قائم فیکٹری پر دھاوا بول کر پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈ کو یرغمال بنالیا اور لوٹ مار کر کے باآسانی فرار ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پورٹ قاسم میں قائم فیکٹری میں 15 سے زائد ڈاکوؤں نے دھاوا بولا اور وہاں موجود سیکیورٹی گارڈ، پولیس اہلکاروں کو یرغمال بناکر رسیوں سے باندھا اور سکون سے واردات کی۔

ڈاکو واردات کے دوران سرکاری اسلحہ اور سیکیورٹی گارڈ کا اسلحہ ، میگزین ، گولیاں اور 3 موبائل فونز چھین کر فرار ہوگئے۔ بن قاسم پولیس نے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) سی پیک کے پولیس افسر کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 568 سال 2026 بجرم دفعہ 395 کے تحت درج کرلیا۔

مدعی مقدمہ اے ایس آئی شوکت علی شاہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) سی پیک سندھ پولیس میں بطور اے ایس آئی ایڈمن انڈسٹریل زون پورٹ قاسم میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق 28 ستمبر کو بذریعہ فون رات 3 بجکر 53 منٹ پر کانسٹیبل علی نے اطلاع دی کہ 15 سے 20 ملزمان مسلح ہو کر کمپنی کی پیچھے والی دیوار پھلانگ کر آئے اور ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل ارشاد علی ، سیکیورٹی گارڈ معشوق علی اور کانسٹیبل مدثر حسین جو کہ سویا ہوا تھا سب کو باندھ کر اہلکار ارشاد علی کی سرکاری رائفل ، لوڈ میگزین 30 راؤنڈ ، سیکیورٹی گارڈ سے رائفل بمعہ میگزین 10 راؤنڈ اور سوئے ہوئے اہلکار مدثر حسین کے سرہانے رکھا ہوا رائفل بمعہ لوڈ میگزین 30 راؤنڈز چھین اور دروازے کی کنڈی لگا کر فرار ہوگئے۔

ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمان نے پولیس اہلکاروں اور گارڈ کو باندھا جبکہ یہ واقعہ رات 2 بجکر 45 منٹ پر پیش آیا۔ سیکیورٹی گارڈ نے اپنے ہاتھ بمشکل کھول کر اپنے باندھے گئے دیگر ساتھیوں کے ہاتھ کھولے جبکہ ڈاکو پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈ سے موبائل فونز بھی چھین کر لے گئے۔

مدعی کے مطابق واردات سے متعلق اپنے افسران کو دی اور فوری طور پر کمپنی پہنچا بعدازاں افسران کی ہدایت پر رپورٹ درج کرانے آیا ہوں ، واردات کی اطلاع پر پولیس کے دیگر افسران بھی موقع پر پہنچ گئے اور جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں پر موجود ایس پی یو کے اہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈ سے بھی معلومات حاصل کیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے مذکورہ فیکٹری میں چائنیز بھی کام کرتے ہیں جو کہ دن کے وقت ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے اہلکاروں کو فیکٹری میں تعینات کیا گیا ہے تاہم تفتیشی حکام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کر رہے ہیں ، بن قاسم پولیس نے ڈکیتی کی واردات کا مقدمہ درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔

متعلقہ

Load Next Story