ٹرمپ دلدل میں پھنس گئے، نہ مذاکرات کرسکتے ہیں اور نہ ہی جنگ کی سکت رہی؛ ایران

مایوسی کے عالم میں ٹرمپ نے اب ایران کے خلاف فضائی ناکہ بندی کا بھی راستہ اختیار کیا ہے، محسن رضائی

امریکا رویہ تبدیل کرے اور ہماری تمام شرائط مانے تب ہی آبنائے ہرمز کھلے گی؛ ایران

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط امریکا تک پہنچا دی ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کے مطابق یہ بات انھوں نے آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیٰ سے ملاقات کے دوران کہی۔

محسن رضائی نے ٹرمپ کی موجودہ صورتحال کو ایک ایسی دلدل سے تشبیہ دی جہاں وہ نہ مذاکرات کرسکتے ہیں اور نہ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مایوسی کے عالم میں ٹرمپ نے اب ایران کے خلاف فضائی ناکہ بندی کا بھی راستہ اختیار کیا ہے حالانکہ اس سے قبل کی گئی ایرانی بحری ناکہ بندی سے بھی الٹا امریکا کو ہی نقصان ہوا ہے۔

محسن رضائی کے بقول ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیش کردی ہیں اور اب امریکی ردعمل کا منتظر ہے لیکن ٹرمپ تاحال تذبذب کا شکار ہیں۔

دوسری جانب الجزیرہ کی 29 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجاویز پر بات کی، تاہم امریکی مؤقف ہے کہ کسی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی شامل ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں جسے ایران صدر ٹرمپ کی دباؤ کی پالیسی کا حصہ قرار دے رہا ہے۔

 

Load Next Story