ٹیکس اسکیم میں حکومتی نیک نیتی کا مثبت جواب نہیں دیا گیا، چیئرمین ایف بی آر
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایف بی آر ٹیکس اسکیم پر بحث ہوئی، جس میں حکام کی جانب سے انفورسمنٹ اور جرمانوں سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا، جس میں بتایا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں کو ایک ہزار ارب روپے کی ٹیکس رعایت اور تاجروں کے لیے آسان ٹیکس اسکیم کی پیش رفت پر بریفنگ دیں گے۔
حکام اے جی پی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اے جی پی آر کو موصول ہوگیا ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اے جی پی آر سپریم کورٹ کے فیصلے پر 14 دنوں میں عملدرآمد کرے گا۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ سینیٹ کے اندرونی فیصلوں میں مداخلت کرسکتا ہے۔ سینیٹ کے اپنے رولز آف بزنس ہیں جو حکومتی رولز کے تحت نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ ایک ادارہ ہے جس میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سرکاری اداروں کے لیے ہے۔ پارلیمنٹ ایک خود مختار ادارہ ہے جو کسی کے ماتحت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے مقدمے میں سینیٹ ملازمین فریق نہیں ہیں۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سینیٹ کو اے جی پی آر سے باہر نکل آنا چاہیے۔
تاجروں کے لیے آسان ٹیکس اسکیم پر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس کا کافی مذاق اڑایا جا رہا ہے، جس پر وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ اسکیم تاجروں کی مشاورت کے ساتھ تیار کی گئی ہے اور ٹیکس ایپ بھی تیار کی گئی ہے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ملک میں ٹیکس ادائیگی کا کلچر نہیں ہے۔ اب تک 10 ہزار 338 دکاندار اسکیم میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ تاجروں کو بتایا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ نہ ہونے پر جرمانہ ہوگا اور رجسٹرڈ نہ ہونے والے تاجروں کے خلاف ایکشن ہوگا۔
وزیر مملکت خزانہ نے بتایا کہ رجسٹرڈ نہ ہونے والوں پر پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اسکیم کا پہلا مرحلہ ہے، آگاہی بڑھا رہے ہیں۔ اسکیم ایک ماہ قبل شروع ہوئی ہے اور اس پر عملدرآمد کروایا جائے گا۔ ابھی انفورسمنٹ کا مرحلہ شروع نہیں ہوا۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے ہدایت کی کہ اسکیم کی تشہیر کی جائے اور تاجروں کو آگاہ کیا جائے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے لیے تاجروں کی آگاہی بڑھائی جائے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس اسکیم کے لیے بہت محنت کی گئی ہے۔ اسکیم کے لیے جتنی رعایت دی گئی ہے، تاریخ میں کبھی نہیں دی گئی۔ کچھ تاجروں کا خیال ہے کہ ٹیکس نیٹ میں نہ بھی آئیں تو کوئی نہیں پوچھتا، جبکہ ماضی میں ریٹیلرز پر سختی کی گئی تو ان کے پاس وجوہات تھیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس اسکیم نے تاجروں کے تمام خدشات دور کردیے ہیں۔ اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے مزید وقت دیں گے۔ اگر ٹیکس نہ دینے کی نیت ہوئی تو انفورسمنٹ کے ذریعے ٹیکس وصولی کی جائے گی۔ حکومت کی نیک نیتی کا اب تک مثبت جواب نہیں دیا گیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ 30 ستمبر تک انکم ٹیکس ریٹرنز میں 15 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سال 55 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کروائی گئی ہیں، جبکہ گزشتہ سال 30 ستمبر تک 40 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے گئے تھے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ انفورسمنٹ کا جب مرحلہ آئے گا تو اس وقت اقدامات کیے جائیں گے۔