پشاور کے 462 گھرانوں کا مہنگائی سروے، 89 فیصد خاندان قرض کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور

بڑھتی مہنگائی نے شہریوں کے گھریلو بجٹ، خوراک، تعلیم، علاج اور آمدورفت کے اخراجات کو شدید متاثر کیا ہے، سروے

فوٹو: فائل

پشاور:

انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے مہنگائی کے حوالے سے سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی مہنگائی نے شہریوں کے گھریلو بجٹ، خوراک، تعلیم، علاج اور آمدورفت کے اخراجات کو شدید متاثر کیا ہے۔

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے بتایا کہ سروے پشاور کے 462 گھرانوں سے کیا گیا، جس کے نتائج فوکس گروپ مباحثوں اور شراکت داروں کے مکالمے پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور پشاور بھی اس سے انتہائی متاثر ہوا ہے، جہاں مہنگائی میں 35 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر اقبال خلیل کے مطابق کم آمدنی والے علاقوں میں 48.7 فیصد گھرانوں نے خود کو مہنگائی سے انتہائی حد تک متاثر قرار دیا، جبکہ 67.3 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ ان کی آمدن میں اضافہ ہوا لیکن اخراجات اس سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 93 فیصد گھرانوں کے بجلی، گیس اور تیل کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جبکہ 86.4 فیصد گھرانوں کے خوراک کے اخراجات بھی بڑھ گئے۔ بیشتر گھرانے کم اور سستی اشیا استعمال کرکے گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق 79.4 فیصد گھرانے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے، 59.1 فیصد گھرانوں کو اسکول فیس کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے جبکہ 19.2 فیصد نے اپنے بچوں کو کم فیس والے اسکولوں میں منتقل کردیا۔

ڈاکٹر اقبال خلیل نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ اور آمدورفت پر بھی دباؤ بڑھا، 84.6 فیصد گھرانوں نے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کی شکایت کی۔ 79.8 فیصد نے بازار جانے، 51.6 فیصد نے تعلیمی، 49.2 فیصد نے روزگار اور 37.7 فیصد نے طبی ضروریات کے لیے سفر میں کمی کی۔

ان کے مطابق فروری 2026 سے پٹرولیم قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ سروے میں 89 فیصد گھرانوں نے بتایا کہ وہ قرض کے سہارے چل رہے ہیں اور 95.1 فیصد گھرانوں کے لیے قرض واپس کرنا مشکل ہوچکا ہے۔

 

Load Next Story