مہنگا تیل، عالمی جنگیں اور ال نینو کے بعد دنیا کو غذائی قلت کا سامنا؟ بھارت کیوں پریشان

مودی سرکار مسلسل تیسری بار اقتدار میں ہے لیکن وبا اور ناگہانی آفات سے نمٹنے میں بھارت ناکام نظر آتا ہے

افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد بھوک و افلاس کا شکار ہیں؛ اقوام متحدہ

بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو آنے والے مہینوں میں بڑے غذائی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جے شنکر نے نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں کے باعث عالمی جنوب کی معیشتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جنگوں، توانائی اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قلت اور شدید ال نینو موسمیاتی رجحان نے عالمی غذائی تحفظ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے غذائی بحران کے خدشے کی ایک بڑی وجہ کھاد کی ممکنہ قلت کو بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، خوراک، کھاد اور مالی وسائل بیک وقت دباؤ کا شکار ہیں جبکہ تنازعات کے دوران سرمایہ ترقی پذیر ممالک سے نکل کر محفوظ سمجھی جانے والی منڈیوں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔

جے شنکر نے کہا کہ عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ رہا ہے جب بعض ممالک تیل کی رسد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ رواں ماہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق مشرق وسطیٰ اور روس جیسے اہم کھاد پیدا کرنے والے خطوں میں جاری کشیدگی پیداوار اور رسد کو متاثر کر رہی ہے۔ بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل بھی جنگ کے باعث بار بار متاثر ہوئی ہے۔

جے شنکر نے ال نینو کے شدید اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اس موسمیاتی رجحان کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں بارشوں، درجہ حرارت اور زرعی پیداوار میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔

انہوں نے عالمی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں کے دوسرے ممالک پر پڑنے والے اثرات کو بھی مدنظر رکھیں اور عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسیع تعاون کریں۔

واضح رہے کہ مودی سرکار مسلسل تیسری بار اقتدار میں ہے لیکن وبا اور ناگہانی آفات سے نمٹنے میں بھارت ناکام نظر آتا ہے جس کی نظیر کورونا وبا ہے۔ بھارت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل تھا اور شہری عدم سہولیات کے باعث بے بسی کے عالم میں موت کا نوالہ بن رہے تھے۔

 

Load Next Story