شادی شدہ خاتون کا قتل؛ دیور کے خلاف مقدمے میں ناقابل ضمانت سمیت مزید 4 دفعات شامل
راولپنڈی میں شادی شدہ خاتون نبیلہ شاہین کے اغواء اور قتل کے مقدمے میں پولیس نے مزید 4 دفعات شامل کرلی ہیں، جن میں ایک ناقابل ضمانت دفعہ بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون کے اغواء کے مقدمے میں قتل کے بعد تعزیرات پاکستان کی دفعات 363، 449، 201 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔ کمسن بچیوں کے اغواء پر دفعہ 363، مخصوص ارادے سے غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے پر دفعہ 449، لاش چھپانے اور قتل کے شواہد مٹانے پر دفعہ 201 جبکہ مشترکہ نیت سے جرم کرنے پر دفعہ 34 مقدمے کا حصہ بنائی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق دفعہ 449 ناقابل ضمانت ہے، جس کے تحت کم از کم 10 سال سے عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے۔
نبیلہ شاہین کے قتل کا مقدمہ اس کے بھائی نبیل جاوید کی مدعیت میں تھانہ صدر بیرونی میں درج ہے۔ مقدمے میں مقتولہ کا دیور وسیم گرفتار ہے اور وہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔
مقدمے میں مقتولہ کے دیگر دو دیور اصغر اور وقاص، نند عطیہ اور ساس ثمین بھی نامزد ملزمان ہیں۔ ملزمان پر مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے اور اس کی دو بیٹیوں کو اغواء کرنے کے الزامات ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان پر خاتون کو قتل کرنے کے بعد لاش بوری میں ڈال کر چونترہ منتقل کرنے اور گڑھے میں دفن کرنے کا بھی الزام ہے۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔