سپریم کورٹ کا محکمہ زراعت پنجاب کے ملازم کا کرپشن کیس دوبارہ تحقیقات کیلئے بھجوانے کا حکم
سپریم کورٹ میں محکمہ زراعت پنجاب کے ملازم محمد نصیر کے مبینہ کرپشن کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے معاملہ دوبارہ تحقیقات کے لیے محکمہ کو بھجواتے ہوئے نئے افسر سے انکوائری کرانے کا حکم دے دیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد نصیر کو کرپشن کے الزامات پر جبری ریٹائرڈ کیا گیا، قانون کے مطابق انکوائری نہیں کی گئی اور سزا کے طور پر جبری ریٹائرڈ کردیا گیا۔ وکیل نے عدالت سے کرپشن کے حوالے سے فیصلہ دینے کی استدعا بھی کی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کرپشن ثابت ہو تو پھر جبری ریٹائرمنٹ سزا نہیں۔ سرکاری ملازم کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے سروس لینتھ کو دیکھا جاتا ہے، کرپشن ثابت ہوجائے تو پھر سروس لینتھ نہیں ہوتی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ابھی کیس واپس بھیج رہے ہیں۔ عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیس واپس گیا تو ملازمت جا بھی سکتی ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ وہ انکوائری کے لیے تیار ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیئر ٹرائل کا حق تو ہر ایک کو ملنا چاہیے، سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔