حافظ طاہر اشرفی کیخلاف بےبنیاد مہم کےحوالےسے تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں، ترجمان پاکستان علما کونسل
فوٹو: فائل
پاکستان علماء کونسل کے مرکزی ترجمان مولانا محمد اشفاق پتافی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان اور بیرونِ پاکستان چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ان کے بھائی محمد حسن معاویہ اور ان کے خاندان کے خلاف چلائی جانے والی بے بنیاد مہم اور عائد کیے جانے والے الزامات کے حوالے سے پاکستان علماء کونسل خود غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کا واضح مؤقف ہے کہ ہر مجاز فورم پر شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا خیرمقدم کیا جائے گا اور ہر الزام کا جواب قانونی فورم پر دیا جائے گااور اسی لیے قانونی راستہ اختیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ محمد حسن معاویہ، ختمِ نبوت وکلاء فورم اور توہینِ ناموسِ رسالت سے متعلق مقدمات سے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں، تاہم وہ ان مقدمات کو درست سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس کسی زیادتی، بے ضابطگی یا قانون کے غلط استعمال کے ثبوت و شواہد موجود ہیں تو انہیں متعلقہ عدالت یا مجاز تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش کیا جائے۔
مولانا محمد اشفاق پتافی نے کہا کہ محمد حسن معاویہ خود عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ وزیراعظم پاکستان سے بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن اور اسپیشل برانچ سے منسوب رپورٹس کے حقائق، بنیاد اور متعلقہ ریکارڈ سامنے لانے کے حوالے سے ان کی درخواست عدالتی فورم پر موجود ہے اور اس پر فیصلے کا انتظار ہے۔
انہوں نے اس دعوے کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا کہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مختلف قومی یا بین الاقوامی فورمز پر حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے ان کانفرنسوں، اجتماعات اور ملاقاتوں میں نہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے شرکت کی اور نہ حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی علمی و مذہبی شناخت، پاکستان علماء کونسل کی قیادت اور مختلف عالمی تنظیموں میں ذمہ داریوں کے باعث وہ قومی و بین الاقوامی فورمز پر مدعو ہوتے اور اپنی ذاتی اور تنظیمی حیثیت میں شریک ہوتے ہیں۔ جہاں تک برطانیہ میں شائع ہونے والے مضامین اور خبروں کا تعلق ہے، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور محمد حسن معاویہ اس حوالے سے برطانوی قانون کے مطابق ضروری قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ اس قانونی عمل میں جو بھی قابلِ ذکر پیش رفت ہوگی، اس سے مناسب وقت پر قانونی ٹیم آگاہ کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ الزامات کا فیصلہ پراپیگنڈے یا میڈیا ٹرائل سے نہیں بلکہ شواہد، قانون اور عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ غیر جانب دار تحقیقات کا خیرمقدم کیا جائے گا اور ہر الزام کا جواب متعلقہ قانونی فورم پر دیا جائے گا۔