سعودی عرب؛ آرامکو ریفائنری پر مبینہ حملہ؛ دھوئیں کے سیاہ بادل چھاگئے

سعودی حکومت اور آرامکو کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی

حوثیوں کا سعودی عرب کی آرامکو آئل ریفائنری اور خمیس مشیط ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ (فوٹو؛ فائل)

ریاض میں سعودی آرامکو کی تنصیب کے قریب آگ دھوئیں کے بادل نے تشویش بڑھا دی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہفتے کے روز سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب آگ کے شعلے اور دھوئیں کا بڑا بادل دیکھا گیا۔

یہ اطلاع ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو دی۔ آرامکو نے بھی رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ 

واقعے کے فوری بعد آگ لگنے کی وجہ ممکنہ نقصان یا کسی جانی نقصان کے بارے میں سعودی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی ریاض میں ایک تیل کی تنصیب پر آگ لگنے اور فضا میں گھنے سیاہ دھوئیں کے اٹھنے کی اطلاع دی ہے۔

علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور پولیس نے بعض سڑکیں بند کر دیں تاہم آگ کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

سعودی حکومت اور آرامکو کی جانب سے بھی فوری تصدیق نہیں کی گئی۔ 

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ہفتے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا۔

جبکہ سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس نے طائف اور ینبع کی سمت آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔

ریاض میں لگنے والی آگ کے حوالے سے ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور اس کے حملے کا نتیجہ ہونے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوئی۔

 

 

Load Next Story