غزہ میں اسرائیل کی حماس رہنما کے گھر پر بمباری؛ ماں بیٹی سمیت 5 افراد جان سے گئے
غزہ میں اسرائیل کی حماس رہنما کے گھر پر بمباری؛ ماں بیٹی سمیت 5 افراد جان سے گئے
غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں ایک ماں اور ان کی بیٹی بھی شامل ہیں جبکہ حملے کا مبینہ ہدف حماس کے غزہ میں اہم رہنما علی العمودی تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ کے مغربی شہر میں حماس کے زیر استعمال ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں حماس رہنما علی العمودی کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔
بیان میں ترجمان اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس بنیاد پر حاصل معلومات کے بعد گھر کو شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کے ساتھ نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم ترجمان اسرائیلی فوج نے یہ نہیں بتایا کہ اس حملے میں حماس رہنما علی العمودی کی شہادت کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے تفصیلات کا انتظار ہے۔
دوسری جانب فلسطینی ذرائع کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں یونانی آرتھوڈوکس مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی مائسا ابو داؤد اور ان کی بیٹی میری بھی شامل ہیں۔
فلسطینی میڈیا نے مزید 2 افراد کی شناخت یونیورسٹی کی شعبہ ملٹی میڈیا کی سربراہ ڈاکٹر یاسمین البوبو اور ان کی والدہ کے طور پر کی جبکہ ایک 21 سالہ نوجوان بھی مارا گیا۔
علی العمودی کا نام ہلاک شدگان میں شامل نہیں کیا گیا اور امدادی ٹیمیں ملبے تلے مزید افراد کی تلاش کرتی رہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق العمودی حماس کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کا قریبی ساتھی اور ذاتی معاون رہ چکا ہے۔ وہ 2011 میں گیلاد شالیت قیدیوں کے تبادلے کے دوران اسرائیلی جیل سے رہا ہوا تھا اور بعد میں السنوار کے دفتر کے امور سنبھالتا رہا۔
رپورٹس کے مطابق حماس میں قیادت کی تبدیلی کے بعد العمودی غزہ میں تنظیم کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہوگئے تھے تاہم غزہ میں سیاسی بیورو کے سربراہ کے انتخاب کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں الگ کارروائیوں کے دوران اسلامی جہاد کے 2 کمانڈروں کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔