سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں رہیں؛ حوثیوں نے مسافر پروازوں کو خبردار کردیا
سعودی فضائی حدود ہمارے حملوں کا مرکز ہوگا؛ ترجمان حوثی (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)
یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے ایک لاکھ اہلکاروں کی بڑی کارروائی کے جواب میں حوثیوں نے بڑا اعلان کردیا۔
حوثی سے وابستہ خبررساں ادارے سبا کے مطابق حوثیوں کے میری ٹائم آپریشنز کوآرڈی نیشن سینٹر نے بیان میں کہا کہ سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں اور ان کا کہنا تھا کہ یہ فضائی حدود ان کی مسلح افواج کی کارروائیوں کا مرکز بن سکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بھی حوثیوں نے یمن میں لڑائی شدت اختیار کرنے کے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں مسافر طیارے چلانے والی ایئرلائنز کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں رہیں۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی فضائی حدود کے لیے وارننگ کے باوجود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے فضائی علاقے کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
یاد رہے کہ سعودی حمایت یافتہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑا جوابی فوجی آپریشن شروع کردیا ہے۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے بھی کارروائی میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے اور اتحاد کے ترجمان کے مطابق پیر کو تقریباً 100 جنگی طیاروں نے آپریشن ڈان آف یمن کے تحت یمنی حکومتی فورسز کو فضائی مدد فراہم کی۔
رائٹرز کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے بحیرہ احمر میں انتہائی اہم آبنائے باب المندب کے اطراف کئی علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ موکا اور ذباب کے قریب بھی پیش قدمی کی گئی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت میں اتحادی فوج اپنی کارروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرم رہی ہے۔
ادھر سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے حملوں اور بحیرہ احمر و باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
واضح رہے کہ یمن میں سعودی اتحادی فوج اور حوثیوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد رواں برس ایک بار پھر یہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ جس سے باب المندب اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔