اسرائیل نے ہائی جیک ہوئے طیارے کو مار گرانے کی تیاری کرلی تھی؛ رپورٹ
اسرائیل نے اپنے جنگی طیارے بھی فضا میں بھیج دیے تھے؛ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)
فلائی دبئی کے مسافر طیارے کو ہائی جیکنگ کی کوشش کے دوران اسرائیل کی جانب سے مار گرانے کی تیاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز 1073 کے کاک پٹ سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے جنگی طیارے فوری طور پر روانہ کیے تھے اور طیارے کو ممکنہ طور پر مار گرانے کی تیاری کی گئی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ عمانی معاون پائلٹ ھمام الحمامی نے طیارہ اُڑانے والے پائلٹ پر حملہ کرکے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی جس کے دوران طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا تھا۔
کاک پٹ سے جواب نہ ملنے پر اسرائیلی حکام نے ممکنہ ہائی جیکنگ سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طریقہ کار فعال کیا کمانڈ سینٹر قائم کیا اور اپنی فضائی حدود بھی بند کردیں اور اپنے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے تھے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق جنگی طیاروں کو اس وقت واپس بلا لیا گیا جب پرواز نے اسرائیل کے بجائے سعودی عرب کی جانب رخ کرلیا۔ سعودی عرب نے بھی اپنے جنگی طیارے روانہ کیے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر طیارہ اسرائیل کی جانب بڑھتا رہتا اور مخصوص فاصلے تک پہنچ جاتا تو اسرائیلی جنگی طیارے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوکر اس کی نگرانی کرتے۔
اگر ہائی جیکنگ کی تصدیق ہوجاتی اور طیارے سے کوئی رابطہ نہ ہوتا تو فیصلہ سازی میں وزیر دفاع اور وزیراعظم کو شامل کیا جاتا جبکہ طیارے کو مار گرانے کی حتمی اجازت صرف وزیراعظم دے سکتے تھے۔
دوسری جانب طیارے میں موجود مسافروں نے بھی حملہ آور معاون پائلٹ کو قابو کرنے کے لیے جان کی بازی لگا دی تھی جب شدید زخمی پائلٹ بمشکل کاک پٹ کا دروازہ کھولنے پر کامیاب ہوگئے تھے۔
جس کے بعد مسافروں اور فلائی دبئی کے عملے نے معاون پائلٹ کو قابو کرلیا۔ دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے بعد میں طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا۔
رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تفتیش کے دوران معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر بتایا کہ وہ طیارے کو اسرائیل کے بین گوریون ہوائی اڈے سے ٹکرانے کا منصوبہ پہلے ہی بنا چکا تھا۔
ایک اور ذریعے نے دعویٰ کیا کہ عمان سے تعلق رکھنے والے معاون پائلٹ نے اس سے قبل بھی تل ابیب جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرکے تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
اسرائیلی تحقیقات کے ابتدائی نتائج میں واقعے کو ممکنہ طور پر ایک تنہا حملہ قرار دیا گیا تاہم دیگر امکانات کو بھی خارج نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی سیکیورٹی ادارے شن بیت کے اہلکار بھی متحدہ عرب امارات پہنچ کر معاون پائلٹ سے تفتیش میں شامل ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کو فلائٹ کے دیگر عملے کے ارکان کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے اور اماراتی تحقیقات میں بھی انہیں حملے میں شریک نہیں پایا گیا۔
واضح رہے کہ جہاز میں 170 سے زائد مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ جن میں سے ایک مسافر ہائی جیکر معاون پائلٹ کو قابو کرنے کے دوران زخمی ہوگیا تھا۔