قدیم مصری بادشاہوں سے جُڑا خوفناک راز، 5000 سال بعد معمہ حل
(فوٹو: فائل)
مصر کے قدیم بادشاہوں سے جڑے ایک خوفناک راز پر ماہرین نے پانچ ہزار سال پرانی کھوپڑیوں کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد بالآخر معمہ حل کر لیا۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے طریقوں کی مدد سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو پہلے ہونے والی تحقیقات میں نظر انداز ہوگئے تھے۔
محققین نے مصر کے شہر ابیڈوس میں پہلی سلطنت کے تین حکمرانوں کے مقبروں سے ملنے والی انسانی باقیات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ ان میں سے متعدد کھوپڑیوں پر سر پر شدید ضربوں کے واضح شواہد پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق ان شواہد سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ شاہی حکمرانوں کے ساتھ دفن کیے جانے والے بعض خادموں کو ہلاک کیا گیا تھا تاکہ وہ مرنے کے بعد بھی اپنے بادشاہوں کی خدمت کر سکیں۔
یہ انسانی باقیات پہلی مرتبہ 1920 کی دہائی میں دریافت ہوئی تھیں اور اب برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے ڈک ورتھ کلیکشنز میں محفوظ ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی نے ان قدیم باقیات پر موجود ایسے شواہد نمایاں کیے ہیں جو پہلے کے محدود تحقیقی طریقوں سے واضح نہیں ہو سکے تھے۔ یہ دریافت قدیم مصر میں شاہی تدفین کی رسومات اور حکمرانوں کے ساتھ خادموں کی تدفین کے بارے میں نئی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
پرڈیو یونیورسٹی کی ڈاکٹر روزلین کیمبل نے بتایا کہ ریٹینر قربانی انسانی قربانی کی ایک قسم ہے، جس میں حکمران کے قریبی افراد کو حکمران کی موت کے وقت قتل کر دیا جاتا ہے۔
جب ان کھوپڑیوں کو پہلی مرتبہ قبروں سے نکالا گیا تو محققین نے انسانی قربانی کے امکان پر سوال اٹھایا تھا لیکن باقیات پر قصداً پہنچائے گئے زخموں کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آئے تھے۔
بعد ازاں جدید فرانزک تکنیکوں کی مدد سے دوبارہ جائزہ لینے پر 46 میں سے 18 کھوپڑیوں پر ممکنہ طور پر جان لیوا سر کی چوٹوں کے شواہد سامنے آئے۔ ان میں کھوپڑی کے فریکچر بھی شامل تھے جبکہ ایک کھوپڑی پر آنکھ کے قریب کسی تیز دھار چیز سے لگنے والے کاٹنے کے زخم کے آثار بھی پائے گئے۔