لاہور ہائیکورٹ کا اینٹی کرپشن کے نظام پر اظہار تشویش، 12 اکتوبر تک مکمل نظام پیش کرنے کا حکم

اینٹی کرپشن میں کوئی کیس چلا جائے تو یقین نہیں ہوتا کہ انصاف ملے گا، چیف جسٹس

(فوٹو : فائل)

لاہور:

لاہور ہائیکورٹ میں جھنگ کے رجسٹری محرر تاج محمد کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے 12 اکتوبر تک مکمل نظام بنا کر پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

سماعت کے دوران ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ آپ نے تمام کاغذات دیکھے ہیں؟ آپ کے افسر نے کیا بیان دیا ہے اور آپ کو وجہ بتائی گئی کہ آپ کو کیوں بلایا گیا ہے؟

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ملزم بے گناہ ہوگیا ہے، کیا تحقیقات میں ضمنی لکھی جاتی ہے؟ عدالت نے تفتیشی افسر کے رویے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلے اس بارے میں بتائیں، تحقیقات کی بات بعد میں کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2020 کا کیس ہے، اب 2026 ہے اور ضمانت اب سامنے آئی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ افسر سسٹم میں رہ سکتا ہے؟ ہم سسٹم کو سمجھتے ہیں، کچھ نہیں کہتے تو اور بات ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پراسیکیوشن دیگر عدالتوں میں بھی تعاون نہیں کرتی، آپ نے سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے کیا سوچا ہے؟ انسپکشن کون کرے گا؟

ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ ڈائریکٹر لیول کا افسر تحقیقات کرے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈائریکٹر پہلے کیا کر رہے تھے؟ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ آپ کو پتہ ہے رجسٹری محرر کتنا اہم عہدہ ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ اینٹی کرپشن میں کوئی کیس چلا جائے تو یقین نہیں ہوتا کہ انصاف ملے گا۔ عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو ہدایت کی کہ 12 اکتوبر تک پورا نظام بنا کر لائیں اور اس معاملے کو خود دیکھیں۔

درخواست گزار کے وکیل تصور حیات لک نے عدالت کو بتایا کہ جھنگ میں 6 جعلی رجسٹریاں درج کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، اینٹی کرپشن نے انکوائری کے بعد 2020 میں ایف آئی آر درج کی۔ درخواست گزار اس دوران اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا رہا، تاہم اب اینٹی کرپشن نے اسے کیس میں ملوث کردیا ہے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، عدالت درخواست گزار کی عبوری ضمانت کنفرم کرے۔

دوسری جانب ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں ڈریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز آئی جی جیل خانہ جات نے سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کرایا، وہ اس اقدام کو سراہتے ہیں۔

ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ انویسٹی گیشن میں تفتیشی افسران کو فنڈ نہ ملنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، اس کی میرٹ پر انکوائری کی جائے گی۔

Load Next Story