سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران وکیل اور ججز کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

جسٹس نعیم اختر افغان  نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کی جاتی ہے، ہم نے آپکے دلائل سن لئے

سپریم کورٹ میں لیاقت حسین مسمات فضیلت بیگم کے درمیان جائیداد کے تنازع کے کیس کی سماعت کے دوران وکیل اور ججز کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

جسٹس نعیم اختر افغان  نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کی جاتی ہے، ہم نے آپکے دلائل سن لئے۔

وکیل غلام مصطفی کندوال  نے کہا کہ ابھی مجھے مزید دلائل دینا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ مزید دلائل دیں گے تو پھر جرمانہ بھی بڑھے گا،  وکیل  نے کہا کہ آپ چاہے میری پوری فیس کا جرمانہ لیں لیکن بات سنیں۔

سپریم کورٹ نے وکیل پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا، وکیل غلام مصطفیٰ کندوال نے کہا کہ میں سینئر وکیل ہوں عدالت میری بات نہیں سن رہی،  ابھی ہمیں سپریم کورٹ سے یہ ہی امید ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان  نے کہا کہ تین عدالتوں کے فیصلے آپکے خلاف ہیں، سپریم کورٹ نے بھی لیو گرانٹ نہیں کی، اب آپ دوبارہ سے پورا کیس نہیں کھول سکتے، مجھے افسوس ہوا ہے آپکے کنڈکٹ پر۔

عدالت عظمیٰ نے نظر ثانی خارج کرتے ہوئے جرمانہ کا حکم واپس لے لیا۔

Load Next Story