یوکرین کا روسی ساحل کے نزدیک آئل ٹینکر پر حملہ؛ 23 بھارتی شہری موجود تھے
یوکرین کے ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے آئل ٹینکر میں 23 بھارتی شہری موجود تھے؛ (فوٹو؛ بھارتی میڈیا)
بحیرہ اسود میں روس کے ساحل کے قریب یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں بھارتی عملے کے 23 ارکان کو لے جانے والے تیل بردار بحری جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ روس کے مشہور ساحلی شہر سوچی کے قریب پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں سمندر کے درمیان ٹینکر سے بلند ہوتے شدید شعلے اور سیاہ دھویں کا بڑا بادل دیکھا جاسکتا ہے۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ آئل ٹینکر پر لائبیریا کا پرچم لہرا رہا تھا۔ جسے سمندری ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔
حملے سے ٹینکر میں موجود خام تیل میں آگ بھڑک اُٹھی اور آگ کے فلک بوس شعلے بلند ہوئے۔ شدید شعلوں کے باعث آگ بجھانے میں ریسکیو عملے کو شدید مشکل پیش آئی اور وہ آگ پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آئل میں سوار عملے کے تمام 23 بھارتی ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ ایک بھارتی شہری کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اس حملے کا الزام یوکرین پر عائد کیا تاہم یوکرین کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی براہِ راست ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ بحیرہ اسود میں روس اور یوکرین کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک روز قبل رومانیہ کے ساحل کے قریب بھی ایک اور بحری جہاز میں آگ لگنے کے بعد وہ ڈوب گیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک لاپتا ہوگیا تھا۔
یوکرین نے اس واقعے کے لیے روس کو ذمہ دار قرار دیا تھا تاہم روس کی جانب سے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ روس یوکرین کی 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی مسلسل خطرات کی زد میں ہے۔