عدالت کا منفرد شناختی کارڈ جاری کرنے پر نادرا کے لیے اہم فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے منفرد شناختی کارڈ جاری کرنے پر نادرا کے لیے اہم فیصلہ جاری کردیا جب کہ عدالت نے نادرا کو ساجد نامی شہری کو مرد کا آئی ڈی کارڈ نمبر کا آخری ہندسہ جاری کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نادرا کے مطابق عورت کے شناختی کارڈ کے نمبر کا آخری ہندسہ 2,4,6,8 میں سے ہوتا ہے، نادرا کے مطابق مرد کا شناختی کارڈ کا آخری ہندسہ 1,3,5,7,9 میں سے ہوتا ہے، نادرا درست ڈیٹا بیس کو برقرار رکھنے کا پابند ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ نادرا آئی ڈی کارڈ پر درست معلومات درج کرنے کا پابند ہے، نادار کا ڈیٹا بیس شناختی کارڈ کی درستگی کے عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، نادرا کے مطابق شہری ساجد کے والد نے سال 2010 میں اندراج کروایا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نادرا کے مطابق نادرا کے فارم پر جنس مرد کی جگہ ساجد کے والد نے عورت لکھ دیا، نادرا کے مطابق ساجد کو شناختی کارڈ جنس عورت کے ساتھ جاری کردیا گیا، وکیل کے مطابق منفرد شناختی کارڈ کی جنس کو تبدیل کرنے کے لیے نادرا کو درخواست دی گی، وکیل کے مطابق نادرا نے جنس مرد کے ساتھ شناختی کارڈ جاری کردیا مگر آئی ڈی کارڈ نمبر تبدیل نہ کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے سول کورٹ اور سیشن کورٹ کے فیصلے کو بحال رکھا، ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں کوئی غیر قانونی چیز نہیں پائی گی۔
نادرا نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کیا، ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خرم نے دلائل دیے۔