پاسداران انقلاب کا ’چور راستے‘ سے آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہاز پر حملہ
امریکا کا تیل ایران لے جانے کے الزام پر خلیج عمان میں آئل ٹینکر پر حملہ
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں مبینہ غیر مجاز راستے سے گزرنے والے ایل پی جی بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے جہاز کی شناخت این وی سن شائن کے نام سے کی جو نات ویت نامی کمپنی کی ملکیت ہے۔
ایرانی بیان کے مطابق جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے ایران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔
حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم اور نظامِ حرکت میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی اور ایل پی جی بردار جہاز مزید سفر جاری نہیں رکھ سکا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی بحریہ آبنائے ہرمز کا انتظام اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اور خطے میں مخالف فوجوں کی موجودگی برداشت نہیں کرے گی۔
ایران نے امریکا پر بحری تجارت میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ تاہم حملے اور نقصان سے متعلق تفصیلات ایرانی فوج کے دعوے پر مبنی ہیں۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے علاقے الجزیرہ سے تقریباً 13 سمندری میل مغرب میں ایک جہاز نامعلوم ہتھیار کا نشانہ بنا۔
حملے سے جہاز میں آگ لگ گئی تاہم بعد میں آگ بجھا دی گئی۔ عملے کی سلامتی اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکیں۔
سمندری امور سے متعلق ویب سائٹ سی ٹریڈ میری ٹائم نے رپورٹ کیا کہ اس واقعے میں پاناما کے پرچم تلے چلنے والا خام تیل بردار جہاز جیم نمبر 2 بھی زیرِ بحث آیا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ امارات کے قریب حملے کا واقعہ اور ایران کے بیان میں مذکور ایل پی جی بردار جہاز پر حملہ ایک ہی واقعہ ہیں یا الگ الگ واقعات ہیں۔