پمز میں مریضوں کیلیے سہولتیں بڑھانے کا فیصلہ؛ نئے شعبے اور خصوصی تعلیمی پروگرام شروع
فوٹو: فائل
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں سانحے کے بعد نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق نے بڑے پیمانے پر ادارہ جاتی اصلاحات کا اعلان کر دیا۔
اصلاحاتی اقدامات میں اسپتال کے انفرا اسٹرکچر کی جدید کاری، طبی سہولتوں کی بہتری اور تعلیمی سرگرمیوں میں توسیع شامل ہے، جبکہ مریضوں کو ادویات کی بلا تعطل فراہمی کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
پمز کے ترجمان ساجد عباسی کے مطابق مریضوں کو ادویات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کے لیے انڈور وارڈز اور او پی ڈی میں خریداری اور لاجسٹکس کے پروٹوکولز بہتر بنا دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ جنرل سرجری، انٹرنل میڈیسن، گیسٹرو اینٹرولوجی، پلمونولوجی اور ڈائلیسس یونٹ میں پرانے الیکٹرو میڈیکل آلات کو منظم انداز میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے الحاق سے بریسٹ، کولوریکٹل، ہیپاٹو بلیئری اور منیمل ایکسیس سرجری میں ماسٹرز کے خصوصی تعلیمی پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق نے تھوراسک سرجری کا مخصوص شعبہ قائم کرنے اور ایک میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کی باقاعدہ منصوبہ بندی کا بھی اعلان کیا ہے، جسے ادارے کی تعلیمی اور طبی توسیع کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پمز انتظامیہ کے مطابق مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی بحالی اور توسیع کے ذریعے بستروں کی گنجائش اور آپریٹنگ سوئٹس کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز، ہاؤس آفیسرز اور نرسنگ عملے کے شفاف انتخاب کے لیے فیڈرل سینٹرل انڈکشن پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت متعلقہ عملے کے انتخاب کا عمل انجام دیا جائے گا۔