اسلام آباد ہائی کورٹ نے ای سی ایل سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کے حوالے سے بڑا فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ پہلے سے بیرون ملک موجود کسی شخص پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام شامل کرنے کا ابتدائی حکم لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے بیرون ملک مقیم پاکستانی شہری ہاشم محمود کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے پاسپورٹ کی تجدید سے متعلق درخواست قانون کے مطابق آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے درخواست گزار ہاشم محمود کی استدعا پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کے پاکستانی پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے۔
فیصلے میں ای سی ایل کے حکم اور بیرون ملک موجود شہری پر اس کے اطلاق سے متعلق قانونی نکات کا جائزہ لیا گیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہاشم محمود پاکستانی شہری ہیں اور 2017 سے امریکا میں مقیم ہیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے پاس امریکی ویزا، ایمپلائمنٹ اتھورائزیشن ڈاکومنٹ اور امریکی ریاست ٹیکساس کا ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود ہے، جو ان کی بیرون ملک رہائش سے متعلق دستاویزات ہیں۔
عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ درخواست گزار نے اپنے پاکستانی پاسپورٹ کی فوری تجدید کے لیے آن لائن درخواست جمع کرائی تھی، تاہم متعلقہ حکام نے یہ درخواست مؤخر کر دی۔ درخواست گزار کو بتایا گیا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں فعال ہے، جس کی وجہ سے پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست پر مزید کارروائی نہیں کی جا رہی۔
ریکارڈ کے مطابق لاہور کے تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درج ایک مقدمے میں پولیس کی درخواست پر ہاشم محمود کے خلاف انٹرپول کا ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے 25 اگست 2026 کی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ نیب کی سفارش اور وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت درخواست گزار کا نام 23 مئی 2023 کو ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایگزٹ فرام پاکستان (کنٹرول) آرڈیننس 1981 کے سیکشن 2 کے تحت حکام کو کسی شخص کو پاکستان سے باہر جانے سے روکنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم ان کے موکل پہلے ہی ملک سے باہر موجود تھے، اس لیے ان پر پاکستان سے باہر جانے کی پابندی کا ابتدائی حکم لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس محمد آصف نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ درخواست گزار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حکم سے انٹرپول کے جاری کردہ ریڈ نوٹس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسی طرح پہلے سے جاری حوالگی کی کارروائی یا قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارروائیاں بھی اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گی، جبکہ پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست قانون کے مطابق نمٹائی جائے گی۔