ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی میں شمولیت پر غور
امریکا میں وسط مدتی الیکشن نومبر میں ہونے والے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں امریکہ کی شمولیت کے معاملے پر جلد فیصلہ کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے پر غور کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں حالیہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور اس حوالے سے فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ امریکہ بہت تیزی سے فیصلے کرتا ہے۔
Q: ‘Have you decided whether to JOIN Saudi strikes on the Houthis?’
— RT Intl (@RT_on_X) October 10, 2026
‘We MAY. We’re going to look at it’ — Trump
‘We will make a DECISION. We move very QUICKLY’ pic.twitter.com/6kF4GgdydB
یمن میں سرگرم حوثی گروپ کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی خطے میں سلامتی کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے جنھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔