خلیج عرب میں آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی، متحدہ عرب امارات نے 22 افراد کو بچا لیا
آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر سدر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی—فائل فوٹو
متحدہ عرب امارات کے نیشنل گارڈ نے خلیج عرب میں ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے بعد عملے کے 22 ایشیائی ارکان کو بحفاظت ریسکیو کرلیا۔
اماراتی حکام کے بیان کے مطابق کوسٹ گارڈ کو آئل ٹینکر کے عملے کی جانب سے ہنگامی مدد کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
نیشنل گارڈ کی خصوصی ٹیموں نے متاثرہ جہاز کا پتا لگایا اور وہاں پہنچ کر عملے کے تمام 22 ارکان کو بحفاظت نکال لیا۔
ریسکیو کیے گئے افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد متعلقہ حکام کے حوالے کردیا گیا۔ بچائے گئے تمام افراد کی حالت مستحکم ہے۔
تاہم آئل ٹینکر میں آگ لگنے کی وجوہات، جہاز کی شناخت اور ممکنہ مالی یا ماحولیاتی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
اماراتی نیشنل گارڈ کے مطابق یہ کارروائی سمندری ہنگامی صورت حال سے نمٹنے، انسانی جانوں کے تحفظ اور بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ادارے کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔
خلیج عرب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری خطہ ہے، جہاں آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کی مسلسل آمدورفت رہتی ہے۔
ایسے واقعات میں فوری امدادی کارروائیاں عملے کی جانیں بچانے اور ممکنہ بڑے حادثات کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تاحال حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ کچھ دیر قبل پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک سپر آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔
جس سے جہاز میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی تھی تاہم انھوں نے جہاز کی شناخت اور عملے سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔
بحرین نے خلیج عرب میں آگ لگنے والے آئل ٹینکر سے 22 ایشیائی عملے کے ارکان کو بحفاظت نکالنے پر متحدہ عرب امارات کے نیشنل گارڈ کے کوسٹ گارڈ ڈویژن کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے 10 اکتوبر کو جاری بیان میں اماراتی فورسز کے فوری ردعمل، سمندری ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت اور متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔
بحرین نے علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور اہم سمندری راستوں پر جہاز رانی کی آزادی برقرار رہے۔