ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں وکلا سے ملاقات کرانے کا حکم
فوٹو: فائل
انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیرئیر ہٹانے کے دہشت گردی کے مقدمے میں وکلا کی ملزمان سے جیل میں ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شیریں مزاری، ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد اور ایڈووکیٹ ایمل خان عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ریاست علی آزاد، زینب جنجوعہ اور ایمل خان کی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات کرانے کی ہدایت کی۔
دوران سماعت ریاست علی آزاد نے کہا کہ اگر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات نہیں ہوگی تو وہ مقدمہ کیسے آگے چلائیں گے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ دہشت گردی کے قانون میں درج ہے کہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے استغاثہ سے استفسار کیا کہ مقدمے میں مزید کتنے گواہ ہیں جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ان کے 9 گواہ ہیں۔
عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ ملزمان تک وکلا کی رسائی دینا پڑے گی، اس موقع پر ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ انہیں عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جا رہا، یہ شفاف ٹرائل کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ آٹھ ماہ سے جیل میں ہیں اور سمجھ نہیں آتا کہ اپنا کیس کیسے آگے چلائیں گے۔
ہادی علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ جیل میں ملاقات کی جگہوں پر کیمرے لگے ہوتے ہیں، ایسے میں وکیل اور مؤکل کے درمیان بات کیسے ہو سکتی ہے؟۔
ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ہماری سزا اور جزا کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، اس لیے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ میں اور ایمان مزاری دہشت گرد ہیں یا نہیں، عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کردی۔