افغان طالبان نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو خود بھی نتائج بھگتیں گے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو خود بھی نتائج بھگتیں گے۔
وفاقی دارالحکومت میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان حکومت سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے اور اگر افغان طالبان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو انہیں بھی ایک دن اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشتگردی خطے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان نے اس خطرے کا بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا ہے اور اس جنگ میں بھاری جانی قربانیاں دیں۔ دہشتگردی کے باعث ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا، اس لیے عالمی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 90 ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور ان کی ہدایات پر روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکام پر مسلسل زور دیتا آیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ اس معاملے پر بات چیت کے لیے پاکستان نے افغانستان کے دورے بھی کیے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا، تاہم دہشتگردی کے حوالے سے افغان حکام اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے۔ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ سرحد پار سے آنے والے دہشتگرد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان سرزمین سے ہونے والے حملے بند ہونے چاہییں اور وہاں سے نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کی منصوبہ بندی بھی افغان سرزمین پر کی گئی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشتگردوں کو اسلحے سمیت ہر قسم کی معاونت فوری طور پر فراہم کرنا بند کرے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردی نے پاکستان کے عالمی تشخص اور ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تمام صوبوں اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے وژن عزم استحکام کی منظوری دی، جس کا مقصد دہشتگردی کی بنیادی وجوہات سمیت اس مسئلے کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ، وفاقی و صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور اپنی کارروائیوں سے عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کرتا رہا ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف اقدامات کرنا افغانستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغان حکومت نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو اسے بھی مستقبل میں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کرتا ہے۔