یمن میں فوجی مداخلت کی تو امریکا کو دردناک انجام سہنا پڑے گا؛ ترجمان حوثی
امریکی اور حوثی نمائندوں کے درمیان ملاقات عمان میں ہوئی
یمن کے حوثیوں نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی مداخلت کی گئی تو اُسے خطے میں اپنے مفادات پر حملوں کی صورت میں سخت جواب مل سکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ بات حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رہنما محمد البخیتی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یمن کے خلاف کسی کارروائی میں امریکا کی شمولیت تنازع کو مزید ہوا دے کر جنگ کی وسعت کو پھیلا سکتی ہے۔
حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رہنما نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر کام کرنے والوں کو بھی خبردار کیا اور ان مقامات کو ممکنہ اہداف قرار دیا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا کہ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے شاہ خالد اور دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈوں سمیت آرامکو سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ حملوں کے باعث فضائی سفر بھی متاثر ہوا ہے اور متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا محدود کی ہیں۔ امریکی حکام نے بھی اپنے اہلکاروں کے ہوائی اڈوں کے استعمال پر پابندیاں سخت کی ہیں۔
ادھر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ حالیہ حملوں کی نوعیت غیر معمولی ہے اور ان کے جواب میں بھی اسی مناسبت سے اقدامات ہونے چاہییں۔ ان کے بقول توانائی کے عالمی تحفظ کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے خلیجی ممالک پر مشترکہ دفاع مضبوط بنانے پر زور دیا، جبکہ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
واضح رہے کہ یمن کے شہر تعز کے گرد بھی سعودی قیادت میں اتحادی افواج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی تیز ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حوثیوں نے اہم راستوں پر کنٹرول کا دعویٰ کیا تاہم جھڑپوں میں ہلاکتوں اور زمینی صورت حال کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔