اعلیٰ عہدوں میں صوبائی کوٹہ لاگو، تیل و گیس کا منافع صوبوں کو دیا جائے، سینیٹ کمیٹی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تفویضِ اختیارات (ڈیولوشن) نے گزشتہ روز وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اعلیٰ گریڈز کی ترقیوں پر صوبائی کوٹہ لاگو کرے۔
یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ 38 ڈویژنز میں سے بلوچستان سے صرف ایک وفاقی سیکریٹری ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت کمیٹی نے وفاقی حکومت کو 2ہفتے کا وقت بھی دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 172 (3) پر روح اور الفاظ پر عمل درآمد کرنے کے لیے یا تو تیل اور گیس کے نصف کنویں صوبوں کے حوالے کرے یا ان کا منافع شیئر کرے۔
حکومت کی جانب سے قابل قبول طریقہ کار فراہم کرنے میں ناکامی کی صورت میں کمیٹی نے پٹرولیم ڈویژن کے حکام کے خلاف تادیبی اقدامات کرنے کی دھمکی دی۔
کمیٹی، جسے 18 ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کا مینڈیٹ حاصل ہے، نے آرٹیکل 38 (جی) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبائی ملازمتوں کے کوٹے پر عمل درآمد نہ ہونے اور آرٹیکل 172 (3) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبوں کو تیل اور گیس کے شعبوں میں ان کے حقوق سے محروم رکھنے کا معاملہ اٹھایا۔
کمیٹی چیئرمین ضمیر گھمرو نے کہا کہ بلوچستان میں بغاوت جاری ہے اور 18 ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد ہی بغاوت کا جواب ہے۔
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے بھی ضمیر گھمرو کی مکمل تائید کی تاہم انہوں نے کہا کہ ترقیوں کے خلاف کوئی کوٹہ نہیں ہے، جس سے کمیٹی نے اتفاق نہیں کیا۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے تحریری جواب کے مطابق وفاقی سروس میں بلوچستان کا کوٹہ 1973 میں 4.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا جسے سابق وزیراعظم عمران خان نے 2020 میں بڑھا کر 6 فیصد کر دیا تھا۔
لیکن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جمع کرائے گئے تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ گریڈ 1 سے 16 تک بلوچستان کا ڈومیسائل رکھنے والے 31,235 ملازمین تھے جو 5.2 فیصد کے برابر تھے اور کوٹے سے کم تھے۔
اسی طرح افسران کے زمرے گریڈ 17 سے 22 میں بلوچستان سے صرف 1,287 افسران تھے جو مجموعی ملازمتوں کا بمشکل 3.5 فیصد بنتا ہے۔
تفویضِ اختیارات کمیٹی نے کہاوفاقی حکومت آئین پر عمل درآمد نہیں کر رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 172 قدرتی تیل اور گیس سے متعلق امور میں وفاق اور صوبوں کی مساوی شرکت کا تصور پیش کرتا ہے۔