خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے بے دریغ اور ذاتی استعمال کا انکشاف
پی ٹی آئی اراکینِ اسمبلی کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کی سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ اور ذاتی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی قیادت نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 23 سرکاری گاڑیاں ناجائز طور پر اپنے پاس دبا رکھی تھیں۔
پی ٹی آئی ایم این اے سہیل سلطان کے پاس ٹویوٹا یارس جبکہ ایم پی اے شرافت اور ایم پی اے ملک شفیع اللہ خان کے پاس سرکاری ٹویوٹا ریوو زیر استعمال تھی۔ پی ٹی آئی ایم پی اے اعظم خان، عبیدالرحمان اور ایم این اے محبوب شاہ کے پاس بھی سرکاری ٹویوٹا ریوو گاڑیاں زیرِ قبضہ رکھنے کے ثبوت سامنے آئے۔
اسی طرح، پی ٹی آئی ایم پی اے لیاقت خان سرکاری ٹویوٹا کرولا جبکہ ایم پی اے عبدالمنعم اور چیئرمین زکوٰۃ شانگلہ زیداللہ کے زیرِ استعمال سرکاری ٹویوٹا ریوو تھی۔ پی ٹی آئی ایم پی اے فخر جہاں کے زیرِ استعمال سرکاری ٹویوٹا گرینڈی، ایم پی اے عبدالکبیر کے پاس ٹویوٹا ریوو جبکہ ریاض خان کے زیرِ استعمال سرکاری ہونڈا سِوک تھی۔
پشاور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی ایم پی اے ڈاکٹر اسرار مہمند کے پاس ٹویوٹا فارچیونر اور ٹویوٹا ویگو رکھنے کے ثبوت سامنے آئے ہیں جبکہ کوہاٹ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے داؤد اور ایم پی اے شاہ تراب نے سرکاری ٹویوٹا جی ایل آئی گاڑی اپنے قبضے میں لے رکھی تھی۔
مردان ڈویژن کے پی ٹی آئی ایم پی اے زرشاد کے زیرِاستعمال تین سرکاری گاڑیاں (ٹویوٹا کرولا، ٹویوٹا ویگو اور سزوکی کلٹس) جبکہ تحصیل چیئرمین صوابی کے پاس ٹویوٹا یارس موجود تھی۔
واضح رہے کہ یہ خبر پی ٹی آئی قیادت کی سرکاری وسائل پر عیش وعشرت اور شاہ خرچیوں کی داستان کی شروعات ہے۔