وزیراعظم قیمتی پتھروں، جواہرات کے منصوبے میں سست روی پر برہم، مؤثرلائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت

وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کی کان کنی سے ان کی تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن تک ایک مکمل ایکو سسٹم تیار کرنے کی ہدایت کی

فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے آزمائشی منصوبے کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات میں تعطل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو آئندہ ہفتے تک مؤثر لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے اس حوالے سے مؤثر لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں سست روی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی سے لے کر ان کی تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن تک ایک مکمل ایکو سسٹم تیار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ غیر معیاری طریقوں سے کان کنی اور قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور قیمتی پتھروں و معدنیات کے وسیع ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات میں اضافے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خطے کے دیگر ممالک کی طرز پر قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے ”برانڈ پاکستان“ متعارف کرانے پر کام کیا جائے اور اس شعبے کو منافع بخش بنانے کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا لائحہ عمل بھی جلد مرتب کیا جائے۔

انہوں نے آزمائشی منصوبوں اور قیمتی پتھروں کی ماڈل مائنز کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے اور منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی تلاش، تراش خراش، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے لیے تیاری سے متعلق آزمائشی منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حسین آباد اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی ہے، منصوبے کے لیے فنڈز بھی دستیاب ہیں اور تعمیراتی کام جلد شروع کر دیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبے کے لیے زمین کی نشان دہی کر لی گئی ہے، اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلینس کی مستقل عمارت کی تعمیر مکمل ہونے تک اسے متبادل مقام پر مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔

Load Next Story