صومالیہ میں 5 ماہ سے زائد اغوا اور موت قریب سے دیکھنے والے پاکستانی انجنیئر کی داستان

’موت یا یقین ہوگیا تھا، زندہ واپسی کی خوشی ہے، حکومت نے کچھ نہیں کیا مگر پیاروں کو گرفتارکیا، ایکسپریس سے گفتگو

صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں 5 ماہ سے زائد عرصے تک یرغمال رہنے کے بعد زندہ بچ کر آنے والے پاکستانی انجنیئر سید حسین یوسف نے کرب ناک دنوں کی دل دہلا دینے والی داستان سنائی ہے۔

کراچی میں مقیم سید حسین یوسف اُن 10 پاکستانیوں میں شامل تھے جو ملازمت کے سلسلے میں آئل ٹینکر آنر 25 پر سوار تھے اور پھر جہاز کو موغادیشو جاتے وقت صومالی قزاقوں نے یرغمال بنالیا تھا۔

ایکسپریس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سید حسین نے بتایا کہ ’جہاز اغوا کے روز میں کمرے میں سورہا تھا تو ایک ساتھی نے دروازہ بجاکر بتایا کہ قزاق آئے اور فائرنگ کررہے ہیں اور پھر اُس کے چار منٹ بعد مسلح افراد ہمارے جہاز پر چڑھ گئے تھے جنہوں نے ہمیں یرپانچ ماہ سے زائد عرصے تک یرغمال بنایا۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک روز یورپی یونین کا وار شپ اٹلانٹا ہمارے جہاز کے قریب آیا تو قزاقوں نے ہمارے سروں پر اسلحہ تان لیا تھا۔ 

’آپریشن کے روز دو جہاز ہمارے کارگو کے قریب آئے تو قزاقوں نے مجھے کہا ہمیں یہاں سے بھاگنا ہے اور وہ انجن روم میں لائے، پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور گولیاں جہاز کی چادر چیر کر اندر بھی آئیں جس کے بعد سمندر کا پانی داخل ہوا‘۔

حسین یوسف کے مطابق اس دوران ایک موقع ایسا آیا جب موت کا یقین ہوگیا تھا جس پر میں نے اپنے ساتھ موجود ہم وطن ساتھی کو کہا کہ تم بھی کلمہ پڑھ لو کیونکہ میں نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں کمپنی اور حکومت نے بے یار و مددگار چھوڑا اگر کچھ اقدامات ہوجاتے تو شاید جو تین شہید ہوئے وہ بھی واپس آسکتے تھے۔

سید حسین نے حکومت کی جانب سے کوئی کردار ادا نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے واپس آکر معلوم ہوا کہ بازیابی کیلیے جب گھر والوں نے احتجاج کیا تو انہیں گرفتار کر کے بند کردیا گیا جبکہ وہ لوگ صرف ہماری تصاویر ہاتھ میں لے کر بازیابی کا مطالبہ کررہے تھے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کردار ادا کرلیتی تو ہم تمام پاکستانی واپس آسکتے تھے، مجھے اپنے واپس آنے کی خوشی تو ہے مگر ساتھیوں کی شہادت پر افسوس بھی ہے کیونکہ ہم نے ساڑھے پانچ ماہ سے زائد عرصہ ایک ساتھ گزارا۔

متعلقہ

Load Next Story