پی ٹی آئی نے کراچی میں کارکنوں کی نظربندی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

امید ہے ہائیکورٹ کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات کا قانونی جائزہ لے کر انصاف کا فیصلہ کرے گی، وکیل کی گفتگو

فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف نے کراچی میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

انصاف لائرز فورم سندھ کے صدر ایڈووکیٹ فیصل مغل، جنرل سیکریٹری بیریسٹر علی طاہر اور ایڈووکیٹ شجاعت علی خان نے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کیخلاف درخواست دائر کردی۔

سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انصاف لائرز فورم سندھ کے جنرل سیکرٹری بیریسٹر علی طاہر نے کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری سندھ اقبال میمن کی جانب سے جاری کیئے گئے دو احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے، ایک حکم میں 15 جبکہ دوسرے میں 27 کارکنوں کے نام شامل ہیں، اور ان درخواستوں کے ذریعے مجموعی طور پر 43 کارکنوں کے معاملے پر عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ کی منظوری کے بغیر ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری نہیں کیے جاسکتے، اس معاملے پر سندھ ہائیکورٹ کے متعدد فیصلے موجود ہیں اور فروری میں بھی عدالت سے اس قانونی نکتے کی توثیق کروائی گئی تھی۔

وکیل نے کہا کہ ایم پی او کے اختیارات استعمال کرنے کے لئے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے، محض فہرستیں تیار کرکے کارکنوں کو حراست میں لینا درست نہیں، ایڈووکیٹ شجاعت علی خان نے رٹ پٹیشن دائر کی ہے جبکہ وہ خود اور انصاف لائرز فورم سندھ کے صدر ایڈووکیٹ فیصل مغل عدالت میں درخواست کی پیروی کررہے ہیں، امید ہے کہ عدالت ان احکامات کا جائزہ لے گی اور متاثرہ کارکنوں کو ریلیف فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں کیخلاف کارروائی کی بنیادی وجہ ان کی پاکستان تحریک انصاف سے وابستگی ہے جبکہ ان کیخلاف کسی جرم میں ملوث ہونے کا ٹھوس مواد پیش نہیں کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو میں بیریسٹر علی طاہر نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کے خدشے اور آئی جی سندھ کی درخواست کا حوالہ دیا گیا ہے، تاہم اب تک ان کے سامنے ایسا کوئی ٹھوس مواد نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ نظر بند کئے گئے کارکن جلاؤ گھیراؤ یا تشدد میں ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئین شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور کسی بھی شخص کی آزادی سلب کرنے کے لئے قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، ایم پی او کے تحت نظر بندی کا فیصلہ متعلقہ مواد کا جائزہ لینے اور قانونی طریقہ کار کی تکمیل کے بعد مجاز فورم پر کیا جانا چاہیے نہ کہ کسی انفرادی افسر کی صوابدید پر کیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہائیکورٹ کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات کا قانونی جائزہ لے کر انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

Load Next Story