سہیل آفریدی کی حراست سے قبل پولیس افسران سے گفتگو کی تفصیلات سامنے آگئیں

سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی قیادت کے رویے کا شکوہ کیا اور کہا کہ حکم ملتے ہی دھرنا ملتوی کرنے کا اعلان کروں گا، ذرائع

فوٹو: فائل

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی، تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر اور دیگر اہم پارٹی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لینے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لیے 11 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے وزیراعلیٰ ہاؤس میں کارروائی شروع کی گئی، جہاں انہیں ان کے کمرے سے تحویل میں لیا گیا، اس وقت وہ کمرے میں اکیلے موجود تھے اور قریبی ساتھی انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر سمیت ٹیم نے سہیل آفریدی سے ملاقات کی، جس کے دوران وہ تقریباً 45 منٹ تک افسران کے ساتھ کمرے میں موجود رہے۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی پی ٹی آئی قیادت کے رویے سے پریشان اور مایوس دکھائی دے رہے تھے۔ افسران نے ان سے سوال کیا کہ وہ لانگ مارچ کو کہاں تک لے جانا چاہتے تھے، جس پر سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ ان کا لانگ مارچ اسلام آباد لے جانے کا ارادہ نہیں تھا اور رات کو مولانا فضل الرحمان کی حکومت سے بات ہوگئی تھی۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے بتایا کہ وفاقی حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کے مطالبات مان گئی تھی، جبکہ پارٹی رہنماؤں سے بھی بات ہوئی تھی اور ہدایت ملتے ہی لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرنا تھا۔

پولیس ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے افسران کے سوال پر سہیل آفریدی نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ پولیس ایکٹ میں ترمیم نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کو نہ ہتھکڑی لگائی گئی اور نہ ہی قیدیوں کی گاڑی میں بٹھایا گیا، بلکہ احترام کے ساتھ ایک گاڑی میں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب اسپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی کو اسپیکر ہاؤس سے حفاظتی تحویل میں لیا گیا، جہاں موجود پی ٹی آئی کے رہنما جنید اکبر، ایک رکن صوبائی اسمبلی، پارٹی کے ایک سوشل میڈیا اہلکار اور سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو بھی تحویل میں لیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جنید اکبر اسپیکر ہاؤس میں موجود تھے، جہاں سے انہیں تحویل میں لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی، بابرسلیم سواتی، جنید اکبر اور دیگر افراد کو حفاظتی تحویل میں لینے کی کارروائی تقریباً دو گھنٹے میں مکمل کی گئی، جس کے بعد تمام افراد کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

متعلقہ

Load Next Story