حوثیوں نے تنازع کے حل کیلیے عمان میں مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی تھی؛ سعودی عرب

سعودی عرب نے حوثیوں کو مذاکرات کی پیشکش کشیدگی کے آغاز پر کی گئی تھی جس کے بعد دوبارہ کوئی رابطہ نہیں ہوا

حوثیوں نے عمان میں مذاکرات کی سعودی پیشکش مسترد کردی، ریاض (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثی گروپ نے حالیہ ہفتوں میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں ملاقات کی پیشکش مسترد کردی جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت خارجہ میں عوامی سفارت کاری کے نائب وزیر ڈاکٹر رائد کریملی نے صحافیوں کو بتایا کہ کشیدگی کے آغاز پر سعودی عرب نے حوثیوں سے مسقط میں ملاقات کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم گروپ نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ چند ہفتے قبل ہونے والا یہی رابطہ دونوں فریقوں کے درمیان آخری رابطہ تھا جس کے بعد دوبارہ فریقین کے درمیان کسی سطح پر بھی براہ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہوسکا۔

سعودی وزارت خارجہ میں عوامی سفارت کاری کے نائب وزیر ڈاکٹر رائد کریملی نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے مسقط میں ملاقات سے انکار کی وجوہات یا کسی متبادل تجویز کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

سعودی وزارت خارجہ کے عہدیدار کے بیان میں حالیہ رابطے کی درست تاریخ، مجوزہ مذاکرات کے ایجنڈے اور مستقبل میں دوبارہ بات چیت شروع کرنے کے امکانات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

سعودی عہدیدار کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کی کوشش کی گئی تھی تاہم حوثیوں کے انکار کے باعث مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔

خیال رہے کہ عمان طویل عرصے سے یمن کے تنازع میں ثالثی اور مختلف فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مسقط میں ہونے والی سفارتی کوششوں کا مقصد ماضی میں بھی تنازع کو سیاسی طریقے سے حل کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات تلاش کرنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ایئرپورٹس، آئل تنصیبات اور مختلف مقامات کو میزائل اور ڈرونز حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے جواب میں سعودی اتحادی افواج نے یمن میں حوثیوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا ہے۔

 

Load Next Story