امریکا میں جبری زیر حراست وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کیخلاف عدالتی سماعت
وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو جنوری میں امریکی فوجیوں نے حراست میں لیا تھا؛ (فائل فوٹو)
وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس نے امریکی عدالت میں تشدد کی سازش کے نئے الزامات مسترد کرتے ہوئے صحت جرم سے انکار کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش ہوئے جہاں امریکی استغاثہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے عائد کیے گئے نئے الزامات پر کارروائی ہوئی۔
یاد رہے کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو جنوری میں امریکی فوجیوں نے ان کے صدارتی محل میں سیکیورٹی اہلکاروں کو چکمہ دیتے ہوئے بیڈ روم سے گھسیٹتے ہوئے طیارے تک لائے اور پھر امریکا منتقل کردیا گیا۔
آج نیویارک کی عدالت میں استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ نے جبر کا ایک پُرتشدد نظام قائم کیا اور برقرار رکھا جس کے نتیجے میں ہزاروں وینزویلا کے شہریوں کو قتل، ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر اپنے مخالفین پر تشدد، بجلی کے جھٹکے دینا، دم گھونٹنا، جنسی زیادتی، جبراً برہنہ کرنا، طویل عرصے تک تنہائی میں رکھنا، بھوکا رکھنا اور نفسیاتی اذیت دینے کے الزامات ہیں۔
امریکی حکام نے مادورو پر مخصوص افراد کے خلاف تشدد کی اجازت دینے اور اس نظام کے تحت امریکی شہریوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
عدالت میں مادورو نے ہسپانوی زبان میں مترجم کے ذریعے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، جس پر جج نے ان کی جانب سے صحت جرم سے انکار درج کرلیا۔ اہلیہ سیلیا فلورس نے بھی خود کو بے گناہ قرار دیا۔
مادورو، ان کی اہلیہ اور دیگر ساتھیوں کو اس سے قبل منشیات کی اسمگلنگ، کوکین کی مبینہ سازش، دہشت گرد قرار دیے گئے گروہوں سے روابط اور اسلحے سے متعلق جرائم کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔
دونوں کے وکلا نے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مادورو ایک خودمختار ملک کے سربراہ ہیں اس لیے انہیں عدالتی استثنیٰ حاصل ہے اور انہیں طاقت کے ذریعے گرفتار کرنا غیر قانونی تھا۔
سیلیا فلورس نے دورانِ حراست دل اور دیگر طبی مسائل کا حوالہ دے کر ضمانت پر رہائی کی درخواست بھی دی تھی تاہم عدالت نے اسے مسترد کردیا تھا۔ مقدمے کی اگلی سماعت جون 2027 کے لیے معطل کردی گئی۔