بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرنے والوں کے لیے چند اہم حقائق

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ کرنے والوں کو دونوں صوبوں کے جغرافیائی خدوخال کو سمجھنا چاہیے

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرنے والوں کے لیے چند اہم حقائق سامنے آگئے۔

رپورٹ کے مطابق جو لوگ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ کرتے ہیں، انہیں سب سے پہلے دونوں صوبوں کے جغرافیائی خدوخال کو سمجھنا چاہیے۔ بلوچستان کا رقبہ 3 لاکھ 47 ہزار مربع کلومیٹر جبکہ خیبر پختونخوا کا ایک لاکھ ایک ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ بلوچستان رقبے میں خیبر پختونخوا سے تقریباً ساڑھے تین گنا بڑا ہے۔

دونوں صوبوں کے جغرافیائی اور سرحدی چیلنجز کا بھی موازنہ کر لیجیے۔ بلوچستان کی بین الاقوامی سرحدیں دو ممالک، افغانستان اور ایران، سے ملتی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی بین الاقوامی سرحد صرف افغانستان سے ملتی ہے۔ اس طرح بلوچستان کو دو مختلف سرحدی سمتوں سے غیر قانونی آمدورفت، اسمگلنگ اور ممکنہ دہشت گردانہ دراندازی کی نگرانی کا چیلنج درپیش ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کو افغانستان سے ملحقہ سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کے خطرات کا سامنا ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرنے سے پہلے یہ بھی جان لیجیے کہ خیبر پختونخوا کی آبادی 4 کروڑ 9 لاکھ جبکہ بلوچستان کی ایک کروڑ 49 لاکھ ہے۔ یعنی خیبر پختونخوا کی آبادی بلوچستان سے تقریباً پونے تین گنا زیادہ ہے۔

جو لوگ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کی صورتحال کو یکساں قرار دیتے ہیں، وہ 2025 سے جولائی 2026 کے اعدادوشمار بھی دیکھ لیں۔ اس عرصے میں خیبر پختونخوا میں 5,782 جبکہ بلوچستان میں 2,705 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے۔ یعنی خیبر پختونخوا میں واقعات کی تعداد بلوچستان سے دو گنا سے زیادہ رہی۔

صرف 2025 کے اعدادوشمار دیکھیں تو خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,811 جبکہ بلوچستان میں 1,557 واقعات رپورٹ ہوئے۔ جنوری سے جولائی 2026 کے دوران بھی خیبر پختونخوا میں 1,971 جبکہ بلوچستان میں 1,148 واقعات سامنے آئے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا موازنہ بھی کر لیجیے۔ سال 2025 میں خیبر پختونخوا میں 1,803 جبکہ بلوچستان میں 784 دہشت گرد مارے گئے۔ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی آپریشنز جاری رہے۔

اب ذرا انسدادِ دہشت گردی کے لیے کیے گئے آپریشنز کا فرق بھی دیکھیے۔ سال 2025 سے جولائی 2026 تک بلوچستان میں 89,858 جبکہ خیبر پختونخوا میں 21,835 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز رپورٹ ہوئے۔ یعنی بلوچستان میں آپریشنز کی تعداد خیبر پختونخوا سے تقریباً چار گنا زیادہ رہی۔

اب بلوچستان حکومت کے عملی اقدامات بھی دیکھ لیجیے۔ بلوچستان نے پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 33 ہزار لیویز اہلکاروں کو پولیس میں ضم کیا اور پورے صوبے کو پولیس کے دائرۂ اختیار میں لانے کے اقدامات کیے۔

بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف محض اعلانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔

اب دونوں صوبائی حکومتوں کی اعلیٰ سطح کی سکیورٹی مشاورت کا موازنہ بھی کر لیجیے۔ جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے دوران بلوچستان میں کم از کم پانچ ایپکس کمیٹی اجلاس رپورٹ ہوئے، جبکہ اکتوبر 2025 سے ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کا 4 فروری 2026 کا ایک ایپکس کمیٹی اجلاس سامنے آیا۔

بلوچستان کے ایپکس کمیٹی اجلاسوں میں دہشت گردی، سرحدی نگرانی، اسمگلنگ، بھتہ خوری اور دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایات دی گئیں۔

دونوں صوبوں کی سیاسی قیادت کے عوامی مؤقف کا بھی جائزہ لے لیجیے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی آپریشنز جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت، مسلح افواج، پولیس اور سی ٹی ڈی کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اور رابطہ کاری کو اپنی سکیورٹی پالیسی کا حصہ بنایا۔ انسدادِ دہشت گردی میں اداروں کے درمیان تعاون ایک بنیادی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرنے والے یہ بھی دیکھیں کہ بڑھتی دہشت گردی کے دوران صوبائی پولیس اور سی ٹی ڈی کو نفری، جدید اسلحے، بلٹ پروف گاڑیوں، نائٹ ویژن آلات اور سکیورٹی فنڈز کے اجرا سے متعلق کن مسائل کا سامنا رہا۔

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے بعد صوبائی سیاسی قیادت کی متاثرہ علاقوں میں موجودگی، شہداء کے جنازوں میں شرکت اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عوامی مؤقف سے متعلق اٹھنے والے سوالات کو بھی اس تقابل کا حصہ بنانا چاہیے۔

بلوچستان میں پولیس اصلاحات، ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں، سکیورٹی آپریشنز اور وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون کا ریکارڈ موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کی صوبائی انتظامیہ کے مبینہ عدم تعاون اور انتظامی ناکامی کو وفاقی حکومت نے سکیورٹی بحران کی وجوہ میں شامل کیا۔

جو لوگ سوال کرتے ہیں کہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی ہے تو وہاں ایمرجنسی کیوں نہیں لگائی گئی، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ صرف دہشت گردی کے واقعات ہونا ایمرجنسی لگانے کی وجہ نہیں بنتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان قائم رکھنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے اور کیا وہ حالات پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔

بلوچستان میں صوبائی حکومت نے موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس اصلاحات، سکیورٹی اجلاسوں اور مشترکہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت نے سکیورٹی اور انتظامی حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی کا جواز پیش کیا۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرنے والوں کو دہشت گردی کے واقعات کے ساتھ حکومتی اقدامات، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد، ایپکس کمیٹی کے فیصلوں، وفاقی تعاون اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ اصل تقابل صرف دہشت گردی کی موجودگی کا نہیں بلکہ دہشت گردی کے مقابلے میں حکومتی ردعمل اور ادارہ جاتی کارکردگی کا ہونا چاہیے۔

Load Next Story