ضبط شدہ سونے کی اینٹیں واپس نہ کرنے پر کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری

اسمگلنگ ثابت ہونے تک سونا ضبط نہیں کیا جا سکتا، درخواست گزار کا مؤقف

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضبط شدہ سونے کی اینٹیں واپس نہ کرنے پر کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

ضبط شدہ سونے کی اینٹوں کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی، جس میں عدالت نے سونے کی اینٹوں کے عوض تقریباً 48 لاکھ روپے کی ادائیگی کی پیشکش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری اور 2 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس سے متعلق حکم نامہ جاری کردیا۔

واضح رہے کہ وقار النساء نامی شہری نے توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی ہے۔

حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کو سونے کی اینٹیں واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھا، ان کے بدلے رقم ادا کرنے کا نہیں۔ درخواست گزار وکیل کے مطابق ادائیگی کے لیے سونے کی موجودہ قیمت کے بجائے 2023 کی قیمت مقرر کی گئی۔ سونے کی قیمت میں اضافے کا فائدہ ریاست کو کیوں دیا جائے جبکہ نقصان کا بوجھ درخواست گزار برداشت کرے۔

حکم نامے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ سونے کی اینٹیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کی جا چکی ہیں اور اب واپس حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 169(4) ضبط شدہ اشیا کی فروخت اور حاصل شدہ رقم محفوظ رکھنے سے متعلق ہے۔ متعلقہ قانونی شق میں ضبط شدہ سونے کو ناقابلِ واپسی طور پر اسٹیٹ بینک کے حوالے کرنے کا ذکر نہیں۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ درخواست گزار کو موجودہ قیمت کے مقابلے میں کم رقم ملنے اور ریاست کو قیمت میں اضافے کا فائدہ پہنچنے کی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں دی گئی۔

درخواست گزار کے مطابق اسمگلنگ ثابت ہونے تک سونا ضبط نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا اور کلکٹر کو 2 ہفتوں کے اندر اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2 ہفتوں میں سونا درخواست گزار کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت دائر کی گئی ہے۔

Load Next Story