کے پی پر حملہ کرکے کہا جارہا ہے بلوں سے باہر نکلو، لوگ نکل آئے تو کیا ہوگا؟ ناصر عباس

پہلے ہی آپ سے بلوچستان نہیں سنبھالا جارہا، یمن اور سعودیہ کی لڑائی میں ہمیں فریق نہیں ثالث بننا چاہیے، سینیٹ میں خطاب

اسلام آباد:

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ہمارے صوبے پر حملہ کرکے کہا جارہا ہے بلوں سے باہر نکلو، لوگ نکل آئے تو کیا ہوگا؟ پہلے ہی آپ سے بلوچستان نہیں سنبھالا جارہا، یمن اور سعودیہ کی لڑائی میں ہمیں فریق نہیں ثالث بننا چاہیے۔

سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال میں انہوں نے کہا کہ آپ نے آخری قلعہ بھی فتح کرلیا آپ نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے، کے پی کے وزیراعلی، وزراء کو گرفتار کرلیا، آج بھی کے پی کے میں ایک ایم این اے کو اٹھالیا، کے پی کے میں منتخب نمائندوں کو ہٹاکر چاپلوس لوگوں کو حکومت دے دی گئی، آج سارا پاکستان سراپا احتجاج ہے پاکستان اپنی تباہی بربادی کی طرف جارہا ہے عدلیہ کو تباہ کردیا گیا ہے کاش کہ فیصلے سیاست دان کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پاکستان تین طرف سے بند ہے اور موسم کی وجہ سے چین کی طرف سے بند ہونے والا ہے، ایک ملک جو چاروں طرف سے بند ہوجائے کیا وہ معاشی طور پر آگے بڑھ سکتا ہے؟ آپ سیاست دانوں کی بہنوں بٹیوں کو اٹھا رہے ہیں اس کا کیا جواز ہے آپ کے پاس؟ آپ قیامت کے دن کیا جواب دیں گے؟ ایک پورے صوبے کو آپ نے دیوار کے ساتھ لگا دیا، یہ خطرناک ہوتا ہے جب لوگ خاموش ہوجائیں، آئندہ کے پی کے میں جو بدامنی ہوگی اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ 71ء میں آپ نے عوامی مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا تو وہ الگ ہوگئے، ہم نے 71ء سے کچھ نہیں سیکھا ہم پھر اسی طرف جارہے ہیں، ہمارے صوبے پر حملہ کیا گیا اب کہا جارہا ہے بلوں سے باہر نکلو لوگ نکل آئے تو کیا ہوگا؟ پہلے ہی بلوچستان آپ سے سنبھالا نہیں جارہا، 11 اکتوبر کو جو بھی ہوا وہ قابل مذمت ہے، آپ صوبہ چھین کر عمران خان کو غیر اہم نہیں بںاسکتے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یمن اور سعودی عرب کی لڑائی بہت خطرناک ہے اب ہم اس میں بھی چلے گئے، یمنی بھی مسلمان ہیں وہ غیرمسلم نہیں ہیں وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں ہمیں جنگ رکوانے کے لیے ثالثی کروانی چاہیے، مگر یہاں سینیٹ و قومی اسمبلی کو پتا ہی نہیں اور جنگیں شروع کی جارہی ہیں، ہمیں اس جنگ میں حصہ نہیں بننا چاہیے اسے فرقہ واریت کا مسئلہ نہ بنائیں۔

راجا ناصر عباس نے کہا کہ دو مسلمان ممالک کی لڑائی میں ہمیں فریق نہیں ثالث بننا چاہیے، یمن کے معاملے پر مشترکہ اجلاس ہونا چاہیے، ان کیمرا اجلاس میں ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ ایران کی سرحد کیوں بند کی گئی؟

پاکستان نے کسی دوسرے ملک پر جارحیت نہیں سعودیہ سے معاہدے کے تحت اقدامات کیے، طارق فضل

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یمن کے حوالے سے کہتا ہوں کہ پاکستان نے کسی دوسرے ملک پر کوئی جارحیت نہیں کی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات کیے گئے ہیں، حرمین شریفین اور سعودیہ کے دفاع کے لیے ہماری جانیں بھی قربان ہیں، ہم سعودی حکومت اور حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے تیارہیں، اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آج بھی تیارہیں، مذاکرات کے لیے حکومت کی بنائی گئی کمیٹی آج بھی موجود ہے اور یہی طریقہ ہے۔

کس ملک کے ساتھ معدنیات کا سودا ہوا ہے وہ بتائیں؟ حنیف عباسی

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ آپ کسی فوجی جوان کے جنازے میں نہیں گئے،  سارا پاکستان کہتا ہے فوج میری ہے مگر میں کسی جوان کے جنازے میں نہ جاؤں کیسے ممکن ہے؟ کس ملک کے ساتھ معدنیات کا سودا ہوا ہے وہ بتائیں؟ جیسے آپ کہتے ہیں میں نے ڈیزل کا سودا نہیں کیا پرمٹ نہیں لیا۔

کچھ غیر سیاسی عناصر نے مذاکرات کامیاب نہیں ہونے دیے، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز نے مذاکرات کی کوشش کی، کچھ غیر سیاسی عناصر نے مذاکرات کامیاب نہیں ہونے دیے، سیشن میں جب کوئی بول رہا ہو اس کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیے۔

رولز کے مطابق کسی ممبر کے بولنے کے دوران مداخلت نہیں ہوسکتی، ثمینہ ممتاز

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ارکان کی تقاریر کے دوران شور شرابے کا معاملہ اٹھا دیا اور قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ رولز کے مطابق کسی ممبر کے بولنے میں مداخلت نہیں سکتے، سر میں درد شروع ہو جاتا ہے، وزراء کو چاہیے کہ یہ معاملہ اٹھائیں۔

Load Next Story