نائن الیون حملے؛ خالد شیخ محمد کی سزائے موت پر امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آگیا
نائن الیون حملے؛ خالد شیخ محمد کی سزائے موت پر امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آگیا
امریکی سپریم کورٹ نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دو دیگر ملزمان کے ساتھ کیے گئے عدالتی سمجھوتے کو بحال کرنے کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد ملزمان کو سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فوجی عدالتی سمجھوتے کے تحت خالد شیخ محمد اعترافِ جرم کے بدلے سزائے موت سے بچ سکتے تھے اور انہیں بغیر پیرول عمر قید دی جانی تھی۔
امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد نائن الیون حملے کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کا فوجی مقدمہ اب 2028 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ملزمان کے ساتھ سمجھوتے کی منظوری فوجی استغاثہ اور گوانتانامو بے میں فوجی عدالتی کارروائیوں کے اعلیٰ حکام نے دی تھی تاہم سابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے 2024 میں اسے منسوخ کردیا تھا۔
ان کا مؤقف تھا کہ نائن الیون جیسے سنگین حملے میں سزائے موت سے متعلق فیصلہ گوانتاناموبے کی فوجی عدالت نے نہیں بلکہ وزیر دفاع کو کرنا چاہیے۔
جس پر ملزمان کے وکلا نے اپیل کورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ آسٹن نے معاہدہ منسوخ کرنے میں تاخیر کی اور انہیں یہ اختیار حاصل نہیں تھا۔
تاہم اپیل کی عدالت نے اکثریتی فیصلے میں سابق امریکی وزیر دفاع کے اقدام کو قانونی قرار دیا جس کے بعد ملزمان کی وکلا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ بھی اس معاملے پر منقسم ہیں۔ بعض مکمل عدالتی مقدمے کو انصاف کا بہترین راستہ سمجھتے ہیں جبکہ دیگر کے نزدیک سمجھوتا طویل قانونی کارروائی ختم کرنے کا ذریعہ تھا۔
خالد شیخ محمد پر الزام ہے کہ انہوں نے 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی ہدایت میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ان حملوں میں چار مسافر طیارے اغوا کیے گئے تھے، جن میں سے دو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، ایک پینٹاگون سے ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا کے ایک میدان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔