جائیداد کے تنازع پر خاتون کے قاتل اپیل خارج؛ عمر قید کا فیصلہ برقرار

گواہان سے انتہائی مائیکرو اسکوپک اور سیکنڈ بہ سیکنڈ درستگی کی توقع غیر فطری ہے، سپریم کورٹ

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے جائیداد کے تنازع پر خاتون کو قتل کرنے والے مجرم محمد اظہر کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ کیس کے مطابق استغاثہ کے 2 گواہ مقتولہ کا بیٹا اور دوسرا ان کا بہنوئی تھا۔ گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد کے درمیان زخموں کی تعداد میں کچھ فرق پایا گیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دہشت اور خوف کے عالم میں انسانی حواس اور مشاہداتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ طبی و چشم دید گواہی میں معمولی فرق بیان کی سچائی کو متاثر نہیں کرتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ گواہان سے انتہائی مائیکرو اسکوپک اور سیکنڈ بہ سیکنڈ درستگی کی توقع غیر فطری ہے، کیونکہ ہر انسان اچانک پیش آنے والی صدمہ انگیز صورتِ حال میں مختلف انداز سے ردِعمل ظاہر کرتا ہے اور خوف کے عالم میں گولیوں کی درست تعداد یاد رکھنا انسانی حد سے باہر ہے۔

یاد رہے کہ مجرم محمد اظہر نے جائیداد کے تنازع پر 2017 میں گھر میں داخل ہو کر مقتول خاتون کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ اس کیس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ شریک ملزم کو بری کر دیا تھا، جس کے بعد ہائیکورٹ نے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

Load Next Story