فیکٹ چیک: عمران خان کے حامیوں کی جانب سے پشاور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی ویڈیو نیپال کی نکلی

ایک وائرل پوسٹ کو تقریباً 49 ہزار مرتبہ دیکھا گیا جبکہ اسے سیکڑوں صارفین نے پسند اور شیئر کیا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور کے گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کر لیا ہے۔

فیکٹ چیک کے دوران یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

دعویٰ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور فیس بک پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک عمارت کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع دکھائی دیتی ہے، جبکہ عمارت سے دھواں بھی اٹھ رہا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کے حامیوں نے پشاور میں گورنر ہاؤس کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

ایک وائرل پوسٹ کو تقریباً 49 ہزار مرتبہ دیکھا گیا جبکہ اسے سیکڑوں صارفین نے پسند اور شیئر کیا۔

https://x.com/Nighat_Abbass/status/2109917348526522487?s=20

 

حقیقت کیا ہے؟

فیکٹ چیک کے مطابق وائرل ویڈیو پاکستان کی نہیں بلکہ نیپال کی ہے اور اس کا تعلق ستمبر 2025 میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے ہے۔

ریورس امیج سرچ کے ذریعے معلوم ہوا کہ یہی ویڈیو 9 ستمبر 2025 کو یوٹیوب پر پوسٹ ہوئی تھی۔

ویڈیو میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں بیرندرا انٹرنیشنل کنونشن سینٹر کے باہر مظاہرین کو دیکھا جا سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے گورنر ہاؤس کے ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ ویڈیو میں نظر آنے والی عمارت پشاور کا گورنر ہاؤس نہیں ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری ویب سائٹ پر موجود گورنر ہاؤس کی تصاویر بھی وائرل ویڈیو میں دکھائی گئی عمارت سے مختلف ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی 14 اکتوبر 2026 کو اس ویڈیو کی حقیقت واضح کرتے ہوئے اسے نیپال کے پرانے احتجاج سے منسوب کیا تھا۔

نتیجہ

عمران خان کے حامیوں کی جانب سے پشاور کے گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کے دعوے کے ساتھ شیئر کی جانے والی ویڈیو گمراہ کن ہے۔

یہ ویڈیو دراصل ستمبر 2025 میں نیپال میں ہونے والے احتجاج کی ہے، جس کا پشاور یا پاکستان کے حالیہ سیاسی حالات سے کوئی تعلق نہیں۔

Load Next Story