محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے عمران خان ہی ہٹا سکتے ہیں، شوکت یوسفزئی
تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اسد قیصر اپنے بھائی کو وزیراعلی بنانا چاہتے ہیں، محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے عمران خان ہٹا سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا کہ بعض پارٹی ارکان کی سےطرف میڈیا پر قیادت کی کردار کشی قابل مذمت ہے، پارٹی میں نظم و ضبط کا شدید فقدان ہے، کسی ممبر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اجلاس کے اندرونی کہانی میڈیا پر بیان کرے۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی قابل احترام اور سینیئر پارلیمنٹیرین ہیں، اچکزئی صاحب کو ہٹائے جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں، عمران خان نے اچکزئی صاحب کو اپوزیشن لیڈر بنایا ہے وہی ہٹا سکتے ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ سے درخواست کرتا ہوں پارٹی میں ڈسپلن قائم کریں، دونوں نے مشکل وقت میں پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہاسد قیصر پر بھائی کو وزیر اعلی بنائے جانے کی خبریں قطعی بے بنیاد ہیں، عمران خان سے اسد قیصر کی ملاقات سے پہلے ہی علی امین گنڈا پور کو بطور وزیراعلیٰ نامزد کیا جاچکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ عمران خان نے اسد قیصر کے بھائی کو اسپیکر بنانے کی ہدایت کی تھی، بعد میں عمران خان نے ہی یہ فیصلہ تبدیل کیا۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اج بھی اس پر قائم ہوں کہ مزاحمتی سیاست نے عمران خان، پارٹی اور کارکنوں کو نقصان پہنچایا ہے، موجودہ ایمرجنسی اور گورنراج کا سسٹم زیادہ چلتا دکھائی نہیں دے رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو دہشت گردی کی بنیاد بتایا جارہا ہے مگر کریک ڈاؤن سیاسی ورکروں کے خلاف جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مل کر جیتی جا سکتی ہے۔