امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 23 بار رجیم چینج میں حصہ ڈالا؛ خصوصی ایلچی نے بھانڈا پھوڑ دیا

امریکا مشرق وسطیٰ نہیں چھوڑ رہا بلکہ تیل کے بدلے سیکیورٹی کی پالیسی تبدیل کر رہا ہے، ٹام بیریک

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں رجیم چینج میں حصہ ڈالا؛ ایلچی ٹام بیریک (فائل فوٹو)

امریکی سفارت کار ٹام بیریک نے کہا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ سے دستبردار نہیں ہو رہا، تاہم خطے میں تیل کے بدلے سیکیورٹی فراہم کرنے اور حکومتوں پر اثرانداز ہونے کی روایتی پالیسی پر نظرثانی کر رہا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق یہ بات ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام بیریک نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عالمی سلامتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکا اب خطے کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں اور کردار کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔

امریکی سفارتکار کے بقول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ اپنے تمام مسائل حل کرنے کے لیے امریکا پر انحصار نہیں کرسکتے۔

ٹام بیریک نے انکشاف کیا کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے کی 23 کوششوں میں حصہ لیا۔

امریکی سفارتکار ٹام بیریک نے مزید کہا کہ امریکا کی مشرق وسطیٰ میں یہ مداخلت اور حکمرانوں کو تبدیل کرنے کی کوششیں اکثر غلط ثابت ہوئیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک موقع پر ایران پر حملوں کو وہاں رجیم چینج سے تعبیر کیا تھا تاہم ان کی یہ بات غلط ثابت ہوئی۔

 

Load Next Story